بم فیکٹری سمیت شدت پسندوں کے 61 ٹھکانے تباہ

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption یہ فیکٹری میران شاہ میں واقع تھی

پاکستان کی فوج نے شمالی وزیرستان میں ’ضرب عضب‘ کے نام سے شروع کی جانے والی کارروائی میں اب تک شدت پسندوں کے اکسٹھ ٹھکانوں اور بم بنانے والی فیکٹریاں تباہ کی ہیں جن میں میران شاہ کی فیکٹری بھی شامل ہے۔

ضربِ عضب آپریشن میں اب تک 376 شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 19 شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

فیکٹری کی تصاویر

میران شاہ میں طالبان کی اس اسلحہ فیکٹری سے ٹینک شکن بارودی سرنگوں سمیت اسی کلو گرام سے 100 کلو گرام دھماکہ خیز مواد سے بھرے 225 سیلنڈر برآمد ہوئے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ میں منگل کی صبح غیر ملکی نامہ نگاروں کو دی جانے والی ایک خصوصی پریس بریفنگ میں میران شاہ میں طالبان کی اس دیسی ساخت کے بم بنانے کی فیکٹری کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کے علاوہ اس کی تصاویر بھی جاری کی گئیں۔

ان تفصیلات کے مطابق اس فیکٹری میں دس ’اینٹی ٹینک مائنز‘ یا ٹینک تباہ کرنے والی بارودی سرنگیں بھی برآمد ہوئیں۔

فوج کے ترجمان نے بتایا کہ اس فیکٹری میں بارودی سرنگوں میں استعمال کیے جانے والے سلینڈر بھی تیار کیے جاتے تھے اور 150 سلینڈر تیاری کے مرحلے میں تھے۔

فیکٹری میں چار سو کے قریب تیار شدہ بم بھی موجود تھے جن میں کیلیں اور پینچ بھرے گئے تھے۔

فوج کے ترجمان نے سٹلائٹ تصاویر کے ذریعے اس فیکٹری کے محل وقوع کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ یہاں شدت پسندوں کو خود کش جیکٹس، دیسی ساخت کے بم اور بارودی سرنگیں بنانے کی تربیت بھی جاتی تھی۔ تربیت مواد کے علاوہ یہاں سے انتہاہ پسندی کا لٹریچر بھی پکڑا گیا۔

فیکٹری میں پکڑے جانے والے سامان میں سات سو کے قریب پائپ اور تانبے کے تار اور دیگر اشیاء بھی موجود تھیں۔

فوج کے ترجمان نے غیر ملکی نامہ نگاروں کے حقانی نیٹ ورک کے بارے میں بار بار پوچھے جانے والے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فوج اس کارروائی میں کوئی تفریق نہیں برتی جائے گی اور ملکی اور غیر ملکی تمام گروپوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ فوج کے ترجمان نے کہا کہ یہ آپریشن تمام رنگ و نسل کے شدت پسندوں کے خلاف ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کسی بھی گروہ کو شدت پسندی اور دہشت گردی کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انھوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ ملا فضل اللہ کے خلاف کارروائی کریں۔

شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ کارروائی کے آغاز سے قبل جنوبی وزیرستان کی جانب سے فوجی دستوں کو دونوں ایجنسیوں کی سرحد پر تعینات کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ شمالی وزیرستان کے دیگر قبائلی علاقوں اور بندوبستی علاقوں سے رابطے منقطع کر دیے گئے تھے تاکہ آپریشن کے دوران شدت پسند وہاں سے بھاگ نہ سکیں۔

فوجی ترجمان نے شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کی تعداد کے بارے میں کہا کہ فوجی کے انٹیلیجنس اداروں کے پاس اس حوالے سے معلومات ہیں تاہم انھیں منظرِ عام پر نہیں لایا جا سکتا۔

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد انتہائی غیر رسمی ہے اور لوگوں کی آمد و رفت معمول کی بات ہے۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان سے شدت پسندوں کے سرحد پار چلے جانے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بارے میں