لال مسجد قتل کیس، مشرف حاضری سے مستثنیٰ

Image caption قتل کے دو مقدمات میں پرویز مشرف ایک مرتبہ بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے لال مسجد کے نائب خطیب غازی عبدالرشید قتل کے مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو عدالت میں حاضری سے ایک دن کا استثنیٰ دے دیا ہے۔ عدالت نے یہ رعایت اُن کے وکیل کی جانب سے میڈیکل سرٹیفکیٹ پیش کرنے کی بنیاد پر دی ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اگر آئندہ سماعت پر ملزم پیش نہ ہوئے تو اُن کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی اور اُن کی ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے اور گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے جاسکتے ہیں۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزم پرویز مشرف اور اُن کے ضامنوں کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف فوجداری دفعات کے تحت چار مقدمات درج کیےگئے تھے اور ان مقدمات میں سے صرف سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں انھیں حاضری سے مستقل استثنیٰ دے دیا گیا تھا جبکہ باقی تین مقدمات میں اُنھیں مقدمے کی سماعت کے دوران ہی حاضری سے استثنیٰ دیا جاتا رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ان مقدمات میں عدالتیں پچاس سے زائد مرتبہ سابق فوجی صدر کو استثنیٰ دے چکی ہیں جس کی مثال ملک کی عدالتی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔

پرویز مشرف کے خلاف اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمے میں سرکاری وکیل ندیم تابش کا کہنا ہے کہ جیل ٹرائل ختم ہونے کے بعد جب عدالتوں میں اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو اُس وقت سے لیکر آج تک اٹھارہ مرتبہ ملزم پرویز مشرف کو حاضری سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کی ہر سماعت پر ملزم پرویز مشرف کے وکلاء کی جانب سے استثنیٰ کی درخواستوں کی مخالفت کی گئی لیکن عدالت ابھی تک ملزم کی درخواست کو ہی اہمیت دیتی رہی ہے۔

ندیم تابش کا کہنا تھا کہ عدالتوں کے رویے سے بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی ’مصلحت‘ کی وجہ سے کارروائی کرنے سےگریزاں ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ پرویز مشرف کی عدالت میں عدم حاضری پر اُن کے ضامنوں کے خلاف کارروائی کرنے کی متعدد بار استدعا کی گئی لیکن ہر بار عدالت نے ان کی درخواست کو مسترد کردیا۔ ججز کو حبس بےجا رکھنے کے مقدمے میں سابق فوجی صدر کے ضامن میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی ہیں۔

لال مسجد کے سابق خطیب غازی عبدالرشید اور نواب اکبر بُگٹی کے قتل کے مقدمات میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف ایک مرتبہ بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور ان مقدمات میں بھی اُنھیں حاضری سے استثنیٰ ملتا رہا ہے۔

فوجداری مقدمات کے ماہر سردار اسحاق نے بی بی سی کو بتایا کہ فوجداری مقدمات میں عدالت ایک حد تک کسی کو حاضری سے استثنیٰ دے سکتی ہے اور اگر عدالت سمجھے تو کسی بھی وقت ملزم کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے علاوہ ملزم کو اشتہاری بھی قرار دے سکتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ضلعی عدالتوں کو زیادہ بااختیار ہونا چاہیے کیونکہ 80 فیصد لوگوں کے مقدمات انہی عدالتوں کے پاس جاتے ہیں۔

اس بارے میں سابق وفاقی وزیر قانون ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ عدالت حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے ہی ملزم کو حاضری سے استثنیٰ دیتی ہے اس میں شخصیات نہیں بلکہ حالات اہمیت رکھتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ پرویز مشرف کو شدت پسندوں سے خطرہ ہے اس کے علاوہ نواب اکبر بُگٹی کے قتل کے بعد بگٹی قبیلے کے لوگوں اور بعض ایسے افراد سے بھی خطرہ ہے جواُن کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے اقدام سے بھی خوش نہیں ہیں۔

اُدھر سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے بارے میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو قابل سماعت قرار دینے سے متعلق فیصلہ جاری کیا ہے۔ اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گُذشتہ برس پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ عبوری تھا اور اب یہ حتمی فیصلے میں تحلیل ہوچکا ہے۔

اس کے علاوہ عدالت نے فریقین سے یہ بھی پوچھا ہے کہ آیا پرویز مشرف کا نام قواعد واضوابط کے تحت ای سی ایل میں شامل کیا گیا اور آیا اس درخواست کے حتمی فیصلے تک پرویز مشرف کو باہر جانے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟

اسی بارے میں