’شمالی وزیرستان کے نوجوان اپنے علاقوں میں خوش تھے‘

Image caption نقل مکانی کرنے والوں میں دو لاکھ کے قریب بچے شامل ہیں جبکہ نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی بے گھر ہوئی ہے

شمالی وزیرستان کی ایجنسی ہیڈ کوارٹر میران شاہ اور دیگر علاقے جیسے میر علی میں فوجی آپریشن سے قبل اگرچہ حالات کشیدہ تھے اور خوف پایا جاتا تھا لیکن مقامی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں خوش تھے۔

خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں کرائے کے مکان تلاش کرتے ان نوجوانوں سے میری ملاقات ہوئی اور اندرون شہر گلی کے نکڑ پر کھڑے ہو کر ان سے میں نے ان کے حالات جاننے کی کوشش کی۔ ان میں پڑھے لکھے نوجوان تھے کوئی ایم اے کر رہا تھا تو کوئی ڈاکٹر بننے کا خواہش مند تھا۔

ندیم عسکر ایم اے پولیٹکل سائنس کے طالب علم ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’ہمارا علاقہ چاہے جیسا تھا ہمارا اپنا تھا، خوف تھا یا طالبان تھے ہم خوش تھے، لیکن اب اپنے ملک میں غیروں کی طرح متاثرین کی زندگی گزارنا ہمیں منظور نہیں ہے ہمیں اپنے وطن واپس بھیج دیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہاں وہ آزاد تھے تعلیم حاصل کرنے والے بچوں پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ انھوں نے کہا کہ بہت سے بچے میران شاہ سے تعلیم حاصل کرکے اعلی تعلیمی اداروں میں بھی گئے ہیں۔

فوجی آپریشن ضرب عضب سے تقریباً پونے پانچ لاکھ افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے اور اب وہ خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر علاقوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ نقل مکانی کرنے والوں میں دو لاکھ کے قریب بچے شامل ہیں جبکہ نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی بے گھر ہوئی ہے۔

ندیم عسکر سے کھیلوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ زیادہ نوجوان فٹ بال پسند کرتے ہیں اور مقامی سطح پر میدانوں میں شام کے وقت کھیلوں کی سرگرمیوں عروج پر ہوتی تھیں۔

ان سے جب پوچھا کہ طالبان کھیلوں کے بارے میں کیا کہتے تھے تو انھوں نے کہا کہ طالبان نے نوجوانوں کو کھیلوں سے کبھی منع نہیں کیا یہاں تک کہ بعض اوقات کچھ طالبان بھی کہیں کہیں فٹ بال کھیلتے تھے۔

محمد الیاس ایف ایس سی کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’دن بہت اچھا گزرتا تھا، صبح کالج یا سکول جاتے اور شام کو قریبی میدان میں کبھی فٹ بال تو کبھی کرکٹ کھیلتے تھے اگر کھیلنے کا موقع نہیں ملتا تو تماشائی بن کر کھیل دیکھتے ضرور تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہاں بنوں میں اب متاثرہ افراد کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ وہ اپنے علاقے کے بادشاہ تھے کبھی کبھار مہینے میں تشدد کا کوئی ایک ایسا واقعہ پیش آجاتا تھا تو خاموشی چھا جاتی تھی اس کے بعد حالات پھر معمول پر آ جاتے تھے۔

محمد ادریس طالب علم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی اپنی زندگی علاقے کی روایات کے مطابق تھی کوئی کسی کو کچھ نہیں کہتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ میر علی اور میران شاہ میں سکولوں میں غیر نصابی سرگرمیاں ہوتی تھیں جس میں موسیقی بھی تھی لیکن کبھی طالبان نے کسی کو کچھ نہیں کہا۔

ان نوجوانوں کا کہنا تھا کہ اب بھی دن بھر کرائے کے مکان تلاش کرتے رہتے ہیں۔ ہر خاندان کے افراد تقسیم ہیں۔ دو دو تین تین افراد رشتہ داروں کے پاس مقیم ہیں اپنے لیے مکان تلاش کر رہے ہیں لیکن یہاں کرائے بڑھا دیے گئے ہیں۔

ان نوجوانوں نے کہا کہ انھیں اپنا علاقہ واپس کردیں ہم اپنے علاقے میں خوش تھے۔

اسی بارے میں