’برقع نہیں لیا تو وہ آپ کو چھوڑیں گے نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یاسمین گل کے مطابق بنوں میں شٹل کاک برقع نظر آئے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ بنوں کی عورت ہے وزیرستان کی نہیں

بنوں میں خواتین کی فلاح کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’خوندے کور‘ کی نمائندہ یاسمین گُل سے میری پہلی ملاقات میں انھوں نے بتایا کہ شمالی وزیرستان سے آنے والی خواتین کا ایک بڑا مطالبہ برقع بھی ہے۔

یہ بات سُن کے مجھے تھوڑی حیرت ہوئی، لیکن جب بنوں اور خاص کر شِمالی وزیرستان کی قبائلی عورتوں سے ملنے کا موقع ملا تو احساس ہوا کہ ان کا یہ مطالبہ کوئی اچنبھے کی بات بھی نہیں۔

میزبانوں کے گھروں، کوارٹروں، کرائے کے مکانوں یا سکولوں کالجوں میں پناہ لینے والی اِن خواتین کو جہاں ایک طرف جگہ کی تنگی کا سامنا ہے وہیں اگر ضرورت کے وقت باہر نکلنا پڑے تو برقع میسر نہیں۔ یہ خواتین جس وقت جان بچا کر اپنے علاقوں سے نکلیں تب پینے کا پانی لینا بھول گئیں تو برقع کہاں یاد رہتا۔ بھاگم بھاگ میں چادریں تان لیں۔

بنوں شہر میں اس وقت پناہ گزینوں کا سیلاب آیا ہوا ہے جس میں چند سفید شٹل کاک برقعے والی خواتین بھی نظر آئیں گی۔ یاسمین گل کے مطابق بنوں میں شٹل کاک برقع نظر آئے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ بنوں کی عورت ہے وزیرستان کی نہیں۔ اس کی زبان بھی داوڑ ہے پشتو نہیں جسے سمجھنا ذرا مشکل ہوتا ہے۔

کوہاٹ سے تعلق رکھنے والی آسیہ کی شادی میران شاہ میں ہوئی۔ کوہاٹ سے قبائلی معاشرے میں آنے کے بعد انھیں یہاں کی مشکلات کا علم ہوا۔

’میں کوہاٹ میں چادر لیا کرتی تھی۔ جب یہاں آئی تو پہلے پہلے میں روتی تھی کہ میں یہ نہیں پہن سکتی۔ لیکن اب عادی ہوگئی ہوں۔ نو سال ہوگئے ہیں شادی کو۔‘

آسیہ کے بقول: ’ہم بازار نہیں جا سکتے۔ مردوں کو بتا دیتے ہیں اور وہ جا کر ہمارے لیے چیزیں خرید لاتے ہیں۔ ہم اپنی مرضی کی چیز نہیں لے پاتے۔ طالبان کے ڈر سے پردہ کرتے ہیں کہ کہیں مار ہی نہ دیں۔ اب تو دھمکیاں بھی دیتے ہیں کہ باہر نکلے، بازار آئے تو گولی مار دیں گے‘۔

میر علی سے آنے والی فرزانہ نامی ایک عیسائی عورت نے بتایا کہ ’وہاں اگر صرف چادر میں نکلیں اور برقع نہ لیں تو اسے بے غیرتی سمجھا جاتا ہے۔ لڑکی ذرا سی بڑی ہوئی تو اُسے برقع پہنا دیتے ہیں۔ بازار تو بالکل نہیں جاتے۔‘

ان خواتین کے بقول برقع پہننا قبائلیوں کا دستور ہے: ’آپ نے اگر برقع نہیں لیا تو وہ آپ کو چھوڑیں گے نہیں۔ اگر آپ مسلمان نہیں ہیں تب بھی آپ کو برقع نہ پہننے کی آزادی نہیں ہے۔‘

شیبا نامی ہندو عورت نے بتایا کہ ’ کالے رنگ کا کُھلا برقع پہننے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس سے بے پردگی ہوتی ہے اسی لیے وہ شٹل کاک برقع اوڑھتی ہیں۔‘

ہندو اور عیسائی عورتیں پردہ کیوں کرتی ہیں؟ اس سوال کے جواب پر اکثر متفق تھیں کہ گو ان کے مذہب میں پردہ کرنے کی ہدایت نہیں کی گئی لیکن چونکہ وہ پاکستان میں رہتی ہیں جو ایک مسلم ملک ہے تو اس کے احترام میں وہ پردہ کرنا مناسب سمجھتی ہیں۔

ایک غیر مسلم عورت نے بتایا کہ ’میں عیسائی ہوں لیکن اپنی عبادت کرنے کی آزادی ہے۔ ہمارے اردگرد سب لوگ مسلمان ہیں تو ہم عید بھی مناتے ہیں۔ سب ہماری دوست ہیں۔‘

لیکن کیا مسلمان عورتیں غیر مسلموں کے تہواروں میں شریک ہوتی ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ انھیں مبارک بادیں دیتی ہیں لیکن شریک نہیں ہوتیں۔

اسی بارے میں