ارسلان افتخار اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے علاوہ دیگر جماعتوں کی جانب سے بھی ارسلان افتخار کی تقرری کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا

پاکستان کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیٹے ارسلان افتخار نے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شامل نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل خان بزنجو نے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی۔

واضح رہے کہ بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین وزیراعلیٰ بلوچستان ہیں۔ میر حاصل خان بزنجو سے قبل جب وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے ایک اعلیٰ افسر سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے بھی استعفٰی کے بارے میں سنا ہے لیکن تاحال ان کا استعفیٰ وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کو موصول نہیں ہوا ہے۔

ارسلان افتخار سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری کے بڑے بیٹے ہیں اور وہ پیشے کے لحاظ سے ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں۔

بولان میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ارسلان افتخار نے ڈاکٹری کے شعبے کو بطور پیشہ اختیار کرنے کی بجائے پولیس اور ایف آئی اے میں ملازمت کو ترجیح دی۔

پولیس اور ایف آئی اے میں ملازمت کے حوالے سے نہ صرف میڈیا میں تنقید کی زد میں رہے بلکہ ان پر بحریہ فاؤنڈیشن کے سربراہ ملک ریاض نے بھی انتہائی سنگین الزامات لگائے۔ ارسلان افتخار کی سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین کی حیثیت سے تعیناتی پر بلوچستان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا۔

ان کی تقرری کی بازگشت بلوچستان اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بھی سنائی دی تھی۔ اجلاس کے دوران حزب اختلاف کے رکن سردار عبد الرحمان کھیتران نے استفسار کیا تھا کہ ایک بدعنوان اور ناتجربہ کار شخص کو رکھنے کے لیے حکومت کی کیا مجبوری تھی۔

بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کے علاوہ دیگر جماعتوں کی جانب سے بھی ارسلان افتخار کی تقرری کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

مخلوط حکومت میں شامل سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے یہ کہا تھا کہ ارسلان افتخارکی تقرری کے حوالے سے ان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

ارسلان افتخار کے حوالے سے میڈیا میں یہ تاثر دیا گیا کہ انھیں وفاقی حکومت کی کسی اہم شخصیت کی سفارش پر رکھا گیا ہے لیکن وزیراعلیٰ داکٹر مالک بلوچ نے اس تاثر کو مسترد کیا تھا اور بلوچستان اسمبلی کو بتایا تھا کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا۔

وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ چونکہ افتخار محمد چوہدری کا تعلق بلوچستان سے ہے اور انھوں نے اس تعلق کے حوالے سے ارسلان افتخار کی تقرری کی تھی۔

اسی بارے میں