پاکستان اور پیپلز پارٹی کی جاسوسی، امریکہ سے احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’امریکہ کی طرف سے ایک بڑی سیاسی جماعت کی جاسوسی سفارتی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے‘

پپاکستان کے دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ اس نے امریکی ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جاسوسی کرنے کے معاملے پر امریکہ سے بات کی ہے۔

یہ بات دفترِ خارجہ کی جانب سے جمعرات کو ایک بیان میں کہی گئی۔

دفرت خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے جاسوسی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے اس کی بڑی سیاسی جماعت کی جاسوسی سفارتی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

بیان کے مطابق اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے سے کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان کے محکمے اور دیگر تنظیموں، عناصر اور افراد کی جاسوسی بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اقدار کی خلاف ورزی ہے۔

انھوں نے کہا کہ این ایس اے کو جاسوسی کی اجازت دیے جانے والی تنظیموں میں سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو شامل کرنا حیران کن ہے۔

امریکی حکام کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جاسوسی کرنا دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کے منافی ہے اور ایسی کارروائیاں بند کی جائیں۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے قواعد کے مطابق سینیٹ میں اس معاملے پر بحث کی درخواست آج یعنی جمعرات کو دے دی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے ایک خفیہ دستاویز شائع کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ کے قومی سلامتی کے ادارے این ایس اے نے سنہ 2010 میں جن تنظیموں اور جماعتوں کی جاسوسی کے لیے امریکہ کی ایک خصوصی عدالت سے منظوری حاصل کی تھی اس میں اس وقت کی بھارت کی حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی بھی شامل تھی۔ نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کو 193 ممالک اور تنظیموں کی جاسوسی کی اجازت دی گئی ہے جن میں بھارت کے ساتھ پاکستان بھی شامل ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق چھ سیاسی جماعتوں کی جاسوسی کی اجازت دی گئی تھی ان میں بھارت کی بھارتیہ جنتا پارٹی، مصر کی اخوان المسلمین، پاکستان کی پاکستان پیپلز پارٹی بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ این ایس اے کو 17 اداروں کی جاسوسی کرنے کی اجازت دی گئی تھی جن میں اقوام متحدہ کی اٹامک انرجی ایجنسی، ورلڈ بینک، عرب لیگ، آئی ایم ایف، ایشیائی ترقیاتی بینک بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ بھارت نے امریکہ کے قومی سلامتی کے ادارے این ایس اے کے ذریعے حکمراں جماعت بی جے پی کی جاسوسی کیے جانے کے خلاف امریکہ سے احتجاج کیا ہے اور اس سے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں ملک کی سیاسی جماعتوں کی جاسوسی کرنے سے باز رہے۔

امریکی خفیہ اداروں کے ذریعے بی جے پی کی جاسوسی کرنے کی خبر کے انکشاف پر سخت ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے حکومت نے دہلی میں مامور امریکہ کے ایک اعلیٰ سفارت کار کو طلب کیا اور ان سے جاسوسی کے معاملے پر اپنی ناراضی ظاہر کی۔

اسی بارے میں