اوکاڑہ: مزارعین اور فوجیوں میں لڑائی، دو مزارع ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس واقعے کی ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی

پاکستان کے صوبے پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کی چھاؤنی میں زمین کا ٹھیکہ بڑھانے پر مزارعین اور فوجی اہلکاروں کے درمیان ہونے والی کشیدگی اور فائرنگ سے دو مزارع ہلاک اورتین فوجیوں سمیت چھ افراد زخمی ہوگئے۔

انجمنِ تحفظِ مزراعین کے مطابق جب سے فوجی انتظامیہ نے ایک ایکڑ زمین کے پیچھے پانچ ہزار روپے سالانہ ٹھیکہ بڑھانے کا اعلان کیا تھا چھاؤنی کے رقبے پر کام کرنے والے مزراعین ناخوش تھے۔

مزراعین اور فوج کے درمیان ٹھیکہ بڑھانے پر اختلافات کئی روز سے جاری تھے اور ٹھیکے کی رقم نہ بڑھانے پر فوج نے پرانے مزراعین کو فارغ کر کے رقبہ نئے کاشکاروں کے حوالے کر دیا تھا جس سے اس زمین پر کئی برس سے کام کرنے والے پرانے لوگ نالاں تھے۔

دو دن پہلے پرانے مزراعین کی جانب سے چھاؤنی کی زمین کا پانی بند کردیا گیا۔ جب فوجی اہلکار پانی کھلوانے گئے تو مزراعین اور فوجیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ بات ہاتھا پائی سے بڑھی اور فائرنگ تک پہنچ گئی۔ فوج اور مزراعین دونوں پہلے فائرنگ شروع کرنے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کر رہے ہیں۔

مزراعین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قائم تنظیم انجمن تحفظ مزراعین پنجاب کے سیکریٹری جنرل مہر عبدالستار کے مطابق جس زمین پر ابھی جھگڑا ہوا ہے وہ کنٹونمنٹ کی حدود میں شامل ہے اور اس کے ارد گرد چیک پوسٹیں قائم ہیں۔

انھوں نے کہا: ’ٹھیکہ بڑھانے کا مقصد یہی تھا کہ اس ذریعے یہ لوگ زمینوں سے محروم ہو جائیں اور پھر فوج اپنے من پسند افراد کو یہ ٹھیکہ دے دے۔ رقبے سے محروم ہونے کے بعد نئے کاشت کاروں کی حوصلہ شکنی کے لیے پانی کے موہگے بند کر دیے۔ ان موہگوں کو کھلوانے کے لیے فوجی جوان آئے، لوگوں نے اس پر احتجاج کیا جس پر فائرنگ کھول دی گئی اور دو کسان ہلاک ہوگئے۔‘

عسکری ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ فائرنگ مقامی کاشت کاروں کے احتجاج میں آنے والے انجمن تحفظ مزراعین کے لوگوں نے شروع کی جو صورت حال کو خراب کر کے فوج کے خلاف اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔

عسکری ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار بھی زمینوں کو پرامن طریقے سے خالی کروا لیا گیا تھا لیکن چند روز بعد انجمن تحفظ مزراعین کے عناصر نے صورت حال کو اس نہج تک پہنچا دیا۔

اس واقعے کی ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ ڈی پی او اوکاڑہ سے بار بار رابطے کرنے کے باوجود ان سے بات نہیں ہوسکی تاہم مقامی صحافیوں کے مطابق علاقے میں صورت حال بدستور کشیدہ ہے۔

انجمن تحفظ مزراعین کے سیکریٹری جنرل مہر عبدالستار کا کہنا ہے کہ ابھی تک ہلاک ہونے والے کسانوں کی لاشیں ان کے ورثا کے حوالے نہیں کی گئیں بلکہ زخمی بھی فوج کے قبصے میں ہیں۔ فوج نے دیہات 15 چار ایل سے کئی افراد کو بھی حراست میں لیا ہے۔

یہ جھگڑا 180 ایکڑ رقبے پر ہوا جو اوکاڑہ چھاؤنی کی حدود میں ہے اور جہاں 20 سے 25 خاندان آباد تھے۔

اوکاڑہ ملٹری فارمز پر فوج اور کسانوں کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔ چند برس پہلے بھی زمین کے ٹھیکے اور قبضے کی وجہ سے یہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں