’آئین کی پاسداری نہ ہو تو مداخلت کا اختیار ہے‘

سپریم کورٹ، فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption جسٹس ناصر الملک چھ جولائی کو ملک کے نئے چیف جسٹس کا حلف اُٹھائیں گے

پاکستان کے نامزد چیف جسٹس ناصر الملک نے کہا ہے کہ اگر ریاستی ادارے آئین اور قانون کی پاسداری نہ کریں تو عدالت کو مداخلت کا اختیار ہے۔

جمعے کو پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ریاست کے ستونوں کو ایک دوسرے کے امور میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ آئین میں تمام اداروں کے اختیارات کا تعین ہو چکا ہے۔

جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ اگر ادارے ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام نہیں کریں گے تو اس سے عوامی حقوق متاثر ہوں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے عدالتی نظام کو موثر بنانا ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ مقدمات کو التوا میں رکھنے کی روش کو ترک کرنا ہوگا تاکہ لوگوں کو جلد از جلد انصاف مل سکے۔

جسٹس ناصر الملک کا کہنا تھا کہ آئین صرف لفظوں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ قوم کی اجتماعی سوچ اور اس کی خواہشات کا عکاس ہے۔

اُنھوں نے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ عدلیہ نے اُن کے دور میں بہت اہم فیصلے کیے ہیں۔

تصدق حسین جیلانی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی بالادستی اُسی وقت ممکن ہے جب اداروں کو کام کرنے دیا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ پائیدار جمہوریت کا قیام آزاد عدلیہ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران ہونے والے واقعات اور چیلنجز نے عدلیہ کو متحرک کردیا ہے۔

جسٹس تصدق حسین جیلانی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ صرف مقدمات کی سماعت نہیں بلکہ انسانی حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا سپریم کورٹ کا کام ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اُن کے دور میں 21 جولائی 2009 کے فیصلے سے متعلق نظرثانی کی درخواست پر فیصلہ سب سے اہم ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے ملک میں ایمرجنسی لگانے کے تین نومبر2007 کے اقدامات کو اپنے 31 جولائی والے فیصلے میں کالعدم قرار دیا تھا جس کے خلاف سابق فوجی صدر نے پانچ سال کے بعد نظرثانی کی اپیل دائر کی تھی اور عدالت نے نظرثانی کی اپیل کو مسترد کر دیا تھا۔

تصدق حسین جیلانی پانچ جولائی کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں جبکہ جسٹس ناصر الملک چھ جولائی کو ملک کے نئے چیف جسٹس کا حلف اُٹھائیں گے۔

اسی بارے میں