’امن تو آ جائے گا رومانس نہیں آئے گا‘

Image caption شمالی وزیرستان میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد، زوہیب وزیر نے بھی ہزاروں ہم وطنوں کی طرح بنوں نقل مکانی کی

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے شاعر زوہیب وزیر کا خیال ہے کہ وہاں جاری فوجی آپریشن کے نتیجے میں، امن تو شاید لوٹ آئے لیکن رومانس کبھی نہیں لوٹے گا۔

تحصیل میران شاہ میں گاؤں سپلغہ کے سلیم کا تخلّص زوہیب وزیر ہے۔ وہ محکمۂ صحت میں ملازم ہیں۔

’انگاروں پر ہی کیوں نہ چلنا پڑے‘: آڈیو رپورٹ

دورِ حاضر میں شمالی وزیرستان کے سیاسی و مذہبی منظرنامے کو خاطر میں لائیں تو یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہاں ادب و ثقافت کے علاقائی رنگ یا اُن سے منسلک لوگ بچے ہوں گے۔

زوہیب وزیر نے بچپن میں اُنھی رنگوں میں پشتو شاعری شروع کی۔ اُن کی ایک نظم کے اقتباس کا اردو ترجمہ کچھ یوں ہے:

’تم میرا ارمان ہو

ارمانوں سے کھیلا نہیں جاتا

آ جاؤ، تم میری جان ہو

اپنی جان سے کھیلا نہیں جاتا‘

شمالی وزیرستان میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد، زوہیب وزیر نے بھی ہزاروں ہم وطنوں کی طرح بنوں نقل مکانی کی۔ وہ اپنے ساتھ تازہ کلام کا رجسٹر لائے ہیں۔ راستے میں نقل مکانی کے کرب کو اُنھوں نے کچھ اِس طرح قلمبند کیا:

’جو مجھے مارنا چاہتا تھا

تو نے مجھے اُنہی کے در کا ملنگ بنا دیا ہے‘

اپنے سفر کی داستان میں زوہیب وزیر نے وقت سے شکوہ کیا ہے کیونکہ بقول اُن کے ’میں پٹھان ہوں، میرا ضمیر کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی اجازت نہیں دیتا۔‘

’جب میرے سر کا سودا ہو

تو محل کے سائے میں

جب میرے سر کی پناہ ہو

تو لوگ کہتے ہیں، خیمے میں جاؤ‘

وقت اور حالات کی کروٹوں نے ہی زوہیب وزیر کے قلم کی جنبش بدل ڈالی ہے۔

’پہلے تو، جسے شاعری میں رومانس کہتے ہیں، پیار و محبت کی باتیں کرتے تھے۔ دو ہزار ایک سے ہمارے علاقے کا ماحول تبدیل ہوا، تب سے میں نے کوئی ایسا شعر نہیں لکھا جو زُلف و رُخسار کے بارے میں ہو۔‘

زوہیب وزیر اپنا پشتو کلام بڑی خوشخطی کے ساتھ سادہ سے رجسٹر میں لکھ کر محفوظ کرتے ہیں لیکن جس رجسٹر میں اُنھوں نے ’زُلف و رُخسار‘ کی داستانیں لکھیں، اُسے اپنے گھر میں پڑے صندوق میں چھوڑ آئے ہیں کیونکہ اب اُن کے لیے ایسی شاعری بے معنی ہو گئی ہے۔

’اپنے علاقے میں لوگوں کو وہ شاعری سناتا ہوں تو اُنہیں محسوس ہوتا ہے کہ میں گالیاں دے رہا ہوں۔ ایک دور تھا جب میں وہ شاعری کرتا تھا۔ لوگ اُس کے ساتھ ٹھیک تھے۔ اب لوگ وہی ہیں لیکن سوچ بدل گئی ہے۔‘

زوہیب وزیر بتاتے ہیں کہ اب شمالی وزیرستان کے لوگ، جنگ و جدل پر مبنی شاعری کو پسند کرتے ہیں۔ اُنھیں لگتا ہے کہ رومانوی شاعری پر مبنی اُن کا رجسٹر، صندوق سے باہر کبھی نہیں آ پائے گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جدید شاعری والا رجسٹر تھامے ہوئے زویب وزیر نے اپنی اگلی نسل کو سخت جان بننے کی نصیحت کی ہے:

’جانتا ہوں کہ راہ قابلِ برداشت ہے نہ سفر

انگاروں پر ہی کیوں نہ چلنا پڑے

ہم یہ سفر کریں گے‘

اسی بارے میں