جسٹس ناصر الملک نے چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ مقدمات کو التوا میں رکھنے کی روش کو ترک کرنا ہوگا تاکہ لوگوں کو جلد از جلد انصاف مل سکے

سپریم کورٹ کے جج جسٹس ناصر الملک نے پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ کے سربراہ کے عہدے چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا ہے۔

حلف برداری کی تقریب اتوار کی صبح اسلام آباد میں ہوئی جہاں صدرِ مملکت ممنون حسین نے ان سے حلف لیا گے اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے شرکت کی۔

سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی پانچ جولائی کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ جسٹس انور ظہیر جمالی نے ملک کے عبوری الیکشن کمشنر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کو جسٹس ناصر الملک نے الیکشن کمیشنر کا عہدہ اس وقت چھوڑ دیا تھا جب ان کو ملک کا آئندہ چیف جسٹس نامزد کر دیا گیا تھا۔

جسٹس ناصر الملک اس سے پہلے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخواہ بھی رہ چکے ہیں۔

جسٹس ناصر الملک کی جانب سے دیے گئے ایک اہم بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ اگر ریاستی ادارے آئین اور قانون کی پاسداری نہ کریں تو عدالت کو مداخلت کا اختیار ہے۔

جمعے کو سابقہ چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ریاست کے ستونوں کو ایک دوسرے کے امور میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ آئین میں تمام اداروں کے اختیارات کا تعین ہو چکا ہے۔

جسٹس ناصر الملک کا کہنا تھا کہ آئین صرف لفظوں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ قوم کی اجتماعی سوچ اور اس کی خواہشات کا عکاس ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کے کردار پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ آمرانہ حکومتوں کی عدالتوں نے ماضی میں ’نظریہِ ضرورت کے تحت‘ حکمرانی کا مجاز قرار دیا۔ اس کے علاوہ عدالیہ کے کردار کے حوالے سے ادارتی تجاوزات بھی ایک اہم عنصر رہا ہے۔

جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ اگر ادارے ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام نہیں کریں گے تو اس سے عوامی حقوق متاثر ہوں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ مقدمات کو التوا میں رکھنے کی روش کو ترک کرنا ہوگا تاکہ لوگوں کو جلد از جلد انصاف مل سکے۔

تصدق حسین جیلانی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی بالادستی اُسی وقت ممکن ہے جب اداروں کو کام کرنے دیا جائے۔

اُنھوں نے کہا کہ پائیدار جمہوریت کا قیام آزاد عدلیہ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران ہونے والے واقعات اور چیلنجز نے عدلیہ کو متحرک کردیا ہے۔

جسٹس تصدق حسین جیلانی کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ صرف مقدمات کی سماعت نہیں بلکہ انسانی حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا سپریم کورٹ کا کام ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اُن کے دور میں 21 جولائی 2009 کے فیصلے سے متعلق نظرثانی کی درخواست پر فیصلہ سب سے اہم ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے ملک میں ایمرجنسی لگانے کے تین نومبر2007 کے اقدامات کو اپنے 31 جولائی والے فیصلے میں کالعدم قرار دیا تھا جس کے خلاف سابق فوجی صدر نے پانچ سال کے بعد نظرثانی کی اپیل دائر کی تھی اور عدالت نے نظرثانی کی اپیل کو مسترد کر دیا تھا۔

جسٹس ناصر الملک کے عہدہ سنبھالنے کے بعد جسٹس جواد ایس خواجہ سپریم کورٹ کے ججوں کی سینیارٹی میں چیف جسٹس کے بعد دوسرے نمبر پر ہوں گے اور یہ توقع کی جا رہی تھی کہ جسٹس جواد ایس خواجہ مستقل چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی تک قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ تاہم ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات کے مطابق انھوں نے یہ عہدہ سنبھالنے سے انکار کر دیا تھا۔

اسی بارے میں