’آرمی چیف کسانوں کی داد رسی کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مقدمہ 151 لوگوں کے خلاف درج کیا گیا ہے

اوکاڑہ میں فوج اور کسانوں کے درمیان ہونے والے تصادم کے واقعے کی ایف آئی آر تو بالآخر درج کر لی گئی لیکن یہ رپورٹ کسانوں کے خلاف درج ہوئی ہے۔

جمعرات کو اوکاڑہ چھاؤنی میں فوج کے زرعی فارمز پر زمین کے ٹھیکے کی رقم بڑھانے پر ہونے والے تنازعے میں فائرنگ سے دو کسان ہلاک ہو گئے تھے۔

ایف آئی آر میں کسانوں پر قتل، اقدام قتل، دہشت گردی، کارِ سرکار میں مداخلت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مزاحمت کی دفعات لگائی گئی ہیں۔ تاہم مزارعین کے بار بار اصرار اور احتجاج کے باوجود فوج کے خلاف ان کی شکایت درج نہیں ہو سکی۔

فائرنگ سے ہلاک ہونے والے 21 سالہ محمد حسن کے والد بشیر احمد سیال بھی کئی برس سے فوج کی اس زرعی زمین پر کاشت کاری کر رہے ہیں۔ بشیر کے مطابق انھیں وقوعے کے دو روز بعد بھی یہ علم نہیں تھا کہ ان کا بیٹا زندہ ہے یا مر گیا۔

بشیر احمد کہتے ہیں: ’یاور زمان جو ہمارا وزیر ہے، ہم اس کے پاس گئے۔ اس نے کہا، ہم فوج کے خلاف نہیں چل سکتے۔ تو میں نے کہا، ہم بھی فوج کے خلاف نہیں، لیکن مجھے میرا بچہ تو ملوا دو، وہ زندہ ہے یا جس حال میں بھی ہے۔ لیکن اس نے مدد نہیں کی۔ ڈی پی او اور ڈی آئی جی ساہیوال، کسی نے بھی مدد نہیں کی۔‘

’وہ مجبور تھے جو کہہ رہے تھے کہ ہم فوج سے نہیں جھگڑ سکتے۔ میں نے کہا، ابھی تو آپ فوج کے ساتھ نہیں جھگڑ سکتے لیکن کل کو جب فوج آپ کے بچے مارے گی تو آپ کیا کریں گے؟ فوج کے خلاف نہیں جا سکتے اسی لیے قتل بھی میرا بیٹا ہوا ہے اور مقدمے میں بھی مجھے نامزد کر دیا گیا ہے۔‘

مقدمہ 151 لوگوں کے خلاف درج کیا گیا ہے جن میں بشیر احمد سمیت 24 افراد نامزد ہیں جبکہ 125 نامعلوم ہیں۔

انجمن تحفظ مزارعین کے جنرل سیکرٹری مہر عبدالستار کہتے ہیں کہ اوکاڑہ کے ضلعی پولیس افسر سے دو روز تک مذاکرات اور احتجاج کے بعد دونوں کسانوں کی لاشیں تو ورثا کو دے دی گئیں لیکن اس شرط پر کہ وہ انھیں جی ٹی روڈ پر رکھ کر احتجاج نہیں کریں گے۔ تاہم فوج کے خلاف کسانوں کی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

مہر عبدالستار کہتے ہیں: ’ہمیں کہا گیا ہے کہ حاضر سروس فوجیوں کے خلاف کارروائی تو جی ایچ کیو کے تحت ہی ہو سکتی ہے۔ ہم تو مقتولین کے خاندانوں کو لے کرگئے تھے کہ ان کی بات سنی جائے، الٹا ایک صوبیدار کی مدعیت میں مقدمہ درج کر دیا گیا کہ کسانوں نے فوج پر فائرنگ کی۔‘

اوکاڑہ چھاؤنی کے گاوں پندرہ چار ایل میں فوج نے ایک ایکٹر زمین پر سالانہ ٹھیکے کی رقم میں پانچ ہزار روپے اضافہ کیا جس پر کسانوں اور فوج کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی اور پھر نوبت فائرنگ تک پہنچ گئی۔

تاہم فوجی حکام کا موقف ہے کہ اضافہ بے جا نہیں تھا بلکہ علاقے میں زمین کی قیمت کے لحاظ سے کیا گیا۔ سالہاسال سے اس زمین پر کاشت کرنے والے خاندان اضافی ٹھیکہ دینے کو تیار نہیں۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک فوجی اہلکار نے کہا ہے کہ فائرنگ مقامی کاشت کاروں کے احتجاج میں حصہ لینے والی انجمن تحفظ مزارعین کے عناصر نے شروع کی جو صورتحال کو خراب کر کے فوج کے خلاف اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔

ہلاک ہونے والے کسانوں کے لواحقین واقعے میں ملوث فوجیوں کے خلاف مقدمے کے اندارج کی درخواست عدالت میں دائر کرنے کا ادارہ رکھتے ہیں۔’

ہلاک ہونے والے محمد حسن کے والد بشیر احمد کہتے ہیں:’ایک آپریشن وانا میں ہو رہا ہے، اور ایک آپریشن فوج نے یہاں شروع کر رکھا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ فوج کی اعلیٰ قیادت اس سے لاعلم تھی اور یہ سب کچھ مقامی فوجی قیادت کے ایما پر کیا گیا۔ میں تو ایف آئی آر کٹواؤں گا میں تو ہر جگہ جاؤں گا۔ میرا جگر اور دل چلا گیا۔ ان کا جائے تو پتہ چلے۔‘

سرکاری موقف کے لیے بی بی سی نے بار بار ڈی پی او اوکاڑہ سے دفتر اور موبائل فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار یہی جواب ملا کہ ’صاحب میٹنگ میں ہیں۔‘

ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے اس واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ کمیشن کی طرف سے جاری ایک بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے میں ملوث فوجی اہلکاروں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

گاوں پندرہ چار ایل کے کسانوں نے چیف آف آرمی سٹاف سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیں اور اس کی داد رسی کریں۔

اسی بارے میں