’پچیس گھنٹے کے سفر کے بعد صرف ایک بوتل پانی ملا‘

Image caption شمالی وزیرستان سے اب تک پونے آٹھ لاکھ افراد نے نقل مکانی کی ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن کے پیش نظر نقل مکانی کرنے والے مقامی صحافیوں نے حکومتی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے کسی قسم کی امداد نہ ملنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

قبائلی علاقوں کی یونین کے صدر نور بہرام کا کہنا ہے کہ انفرادی سطح پر چند باحیثیت افراد نے مدد کی مگر حکومت کی جانب سے کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔

نور بہرام ان صحافیوں میں شامل ہیں جنہوں نے سب سے آخر میں میران شاہ سے نقل مکانی کی۔

ان کے مطابق وہ اپنے خاندان کے ہمراہ گھنٹوں پیدل چلنے کے بعد صدقی چیک پوسٹ پر اس امید کے ساتھ پہنچے کہ بچوں کو کچھ کھانے پینے کو ملے گا مگر انھیں حکومتی انتظامات دیکھ کر مایوسی ہوئی۔

نور بہرام کے مطابق: ’جس تکلیف سے میرے بچے اور خواتین صدقی چیک پوسٹ پر پہنچے میں کبھی نہیں بھولوں گا۔ صرف ہم ہی نہیں ہزاروں کی تعداد میں لوگ 25 گھنٹے کا پیدل سفر طے کر کے جب وہاں پہنچے تو حکام نے پانی کی ایک بوتل اور جوس کے پانچ ڈبے دیے جبکہ گرمی سے تنگ بچے بھوک سے نڈھال تھے۔‘

میں نے نقل مکانی کر کے بنوں پہنچنے والے افراد کا احوال پوچھا تو نور بہرام نے بتایا: ’لوگ راشن کے لیے دن رات قطار میں کھڑے رہتے ہیں۔ بعض مقامات پر تو بےگھر افراد پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ امید ہے کہ آہستہ آہستہ آئی ڈی پیز کے لیے ضرویات زندگی کی ترسیل کو بہتر بنایا جائے گا۔‘

الجزیرہ عربی اور دیگر بین الاقوامی ریڈیوز کے لیے کام کرنے والے نور بہرام کا کہنا ہے کہ ملک کی دیگر صحافتی یونینز نے بھی اپنے بےگھر صحافی ساتھیوں کی اب تک کوئی مدد نہیں کی۔

گذشتہ بیس برس سے شمالی وزیرستان میں صحافت کرنے والے حاجی پذیر نے بھی اس طرح کی دشواریوں کا ذکر کیا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے قافلے میں خواتین کے علاوہ 12 بچے شامل تھے اور جیسے ہی وہ بنوں پہنچے تو انھیں محض پانی کی ایک چھوٹی بوتل کے سوا کچھ نہیں ملا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’نقل مکانی کے بعد جب کرفیو میں کمی کی گئی تو میں نے خبروں کی تلاش میں چند دن پہلے ہی شمالی وزیرستان کا دورہ کیا۔ میران شاہ اور شمالی وزیرستان میں مجھے صرف چھ افراد نظر آئے جبکہ پاکستانی فوج کے ساتھ نقصان نہ پہنچنے کے معاہدے کی وجہ سے تحصیل رزمک، دوست علی، شوال اور آئدک کے مقامات پر ابھی بھی عام شہری موجود ہیں۔‘

اسی بارے میں