ضربِ عضب: ’سات ٹھکانے تباہ، 13 دہشت گرد ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمالی وزیرستان کے تقریباً تمام قبائلی علاقہ چھوڑ چکے ہیں اور اب اگر کوئی پیچھے بچا ہے تو وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہا ہے: پاکستانی فوج

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضربِ عضب میں منگل کی صبح دہشت گردوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کے محکمۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے دیگان میں فضائی بمباری کی گئی جس سے شدت پسندوں کے سات ٹھکانے تباہ ہو گئے اور 13 شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

بیان کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں غیر ملکی دہشت گرد بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ پیر کے روز پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے شمالی وزیرستان کا دورہ کیا جہاں انھیں آپریشن ضربِ عضب کے بارے میں مکمل بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف نے میران شاہ میں جاری آپریشن پر اب تک ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور افواج کی جرات کو سراہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس آپریشن کی وجہ سے اب تک تقریباً سات لاکھ افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے

اس سے قبل پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی میں صدر مقام میران شاہ کا 40 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے صاف کروا لیا گیا ہے لیکن فوجی اہلکاروں کو خدشہ ہے کہ جوں جوں آپریشن آگے بڑھے گا تو فوج کو مزید مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق فوج کو اکا دکا فائرنگ، راکٹ حملوں یا بڑی تعداد میں خود ساختہ دھماکہ خیز مواد سے نمٹنا پڑ رہا ہے لیکن کسی بڑی مزاحمت کی ابھی اطلاعات نہیں ہیں۔

عسکری ماہرین کا کہنا ہے کم مزاحمت کا مطلب ہے کہ شدت پسند ابھی علاقے میں موجود ہیں۔ ایک فوجی اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ ’20 پاکستانی فوجی اب تک ہلاک ہو چکے ہیں تو کچھ تو وہ کر رہے ہیں اور وہاں موجود ہیں۔‘

فوج کے خیال کے مطابق شمالی وزیرستان کے تقریباً تمام قبائلی علاقہ چھوڑ چکے ہیں اور اب اگر کوئی پیچھے بچا ہے تو وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

اطلاعات تھیں کہ میران شاہ کے قریب ایدک کے علاقے میں مقامی قبائلیوں نے اپنے علاقے کو چھوڑنے سے انکار کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption پیر کے روز پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے شمالی وزیرستان کا دورہ کیا

لیکن فوجی اہلکار کہتے ہیں کہ انھوں نے ابتدا میں فوج کے ساتھ مل کر لڑنے کی پیشکش کی تھی۔ اطلاعات ہیں کہ اس علاقے کے لوگوں نے وہاں مقیم چار ازبکوں کو وہاں کارروائی کے آغاز سے قبل ہی بےدخل کر دیا تھا۔

غیرقانونی تحریک طالبان پاکستان کی خاموشی کو بھی ماہرین اہمیت دے رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں تو اب ان کا میڈیا سے رابطہ شاید ممکن نہیں تھا تاہم جن علاقوں میں کارروائی نہیں ہو رہی ہے، طالبان وہاں سے بھی میڈیا کے ساتھ رابطہ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ شاید ان کا یہ خوف ہے کہ وہ بھی مزید بیانات کی صورت میں نظر میں آسکتے ہیں اس لیے خاموش ہیں۔

عسکری ماہرین اور اہلکاروں کا خیال ہے کہ کارروائی جیسے جیسے آگے بڑھے گی تو اسی نسبت سے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ فوجی حکام امید کر رہے ہیں کہ ملک کے عوام خصوصاً سیاست دان کارروائی میں فوج کی مکمل حمایت کریں گے کیونکہ یہ کارروائی انھی کے مطالبے پر کی جا رہی ہے۔

اس مرتبہ کی کارروائی کی ایک اور خوش آئند بات افغانستان کی فوج کا بظاہر تعاون ہے۔ افغان عسکری وفد نے گذشتہ روز پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت سے ملاقات کے دوران اپنے علاقے میں نگرانی مزید بڑھانے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ یہ کتنا جلد ممکن ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں