ضربِ عضب پر طالبان کی خاموشی: حکمتِ عملی یا کچھ اور؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پہاڑوں اور دور دراز کے علاقوں میں روپوش رہنے کے باوجود بھی طالبان کمانڈر صحافیوں سے رابطے کر کے ان کو اپنے پیغامات کسی نہ کسی صورت پہنچاتے رہے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوج کی طرف سے جاری آپریشن ضرب عضب کو تین ہفتے پورے ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے آپریشن کے حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے جس سے کئی قسم کے سوالات جنم لے رہے ہیں۔

تقریباً سات سال قبل وجود میں آنے والی تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی ابتدا ہی سے اس کے ذرائع ابلاغ سے بڑے فعال اور مضبوط رابطے رہے ہیں۔ تنظیم کے ترجمان اکثر اوقات میڈیا میں اتنے سرگرم رہے ہیں کہ ملک کے کسی بھی کونے میں جب بھی ان کی طرف سے کوئی دھماکہ یا حملہ کیا جاتا تو یہ فوری طور پر صحافیوں سے فرداً فرداً رابطہ کرکے ان کی ذمہ داری قبول کر لیتے یا اس سے لاتعلقی کا اعلان کرتے تھے۔

یہاں تک کہ پہاڑوں اور دور دراز کے علاقوں میں روپوش رہنے کے باوجود بھی طالبان کمانڈر صحافیوں سے رابطے کر کے ان کو اپنے پیغامات کسی نہ کسی صورت پہنچاتے رہے ہیں۔

تاہم جب سے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا آغاز ہوا ہے، اس کے بعد سے غیر متوقع طور پر تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے مکمل خاموشی ہے۔

یہ پہلی بار دیکھنے میں آرہا ہے کہ ایک ایسے آپریشن جس کا نشانہ خود عسکری تنظیم ہے اور ان کے جنگجوؤں کو علاقے سے بے دخل کیا جارہا ہو لیکن ان کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آ رہا۔

سوال یہ ہے کہ طالبان کی خاموشی کیا کسی حکمت عملی کا حصہ ہے یا اس کی کوئی اور وجہ ہے؟

وزیرستان کے سینیئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ طالبان کی طرف سے آپریشن کے حوالے سے کوئی باقاعدہ بیانات تو نہیں آ رہے لیکن وہ کبھی کبھار میڈیا سے رابطے کر کے خود کو حالات سے باخبر رکھنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ طالبان کے اقدامات سے بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے وہ کسی حکمت عملی کے تحت آپریشن پر بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ آخر اس کا مقصد کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب زمینی کارروائی پورے علاقے تک پھیلے گی تو اس کے بعد سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں کا آغاز ہو جائے۔

چند دن پہلے تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بی بی سی سے رابطہ کر کے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے مختصر بات کی لیکن آپریشن ضرب عضب سے متعلق کچھ نہیں بتایا۔ توقع یہی کی جارہی تھی کہ شاہد اللہ شاہد حالیہ آپریشن کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کریں گے اور اپنا موقف بھی واضح کریں گے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے وہ جان بوجھ کر آپریشن پر بات کرنے سے گریزاں ہیں۔

تاہم شاہد اللہ شاہد نے اتنا ضرور کہا کہ شمالی وزیرستان آپریشن میں مرنے والے افراد ان کے بھائی ہیں لیکن وہ تحریک طالبان کا حصہ نہیں تھے۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ شمالی وزیرستان طالبان تنظیموں کا ایک بڑا مرکز تھا اور وہاں سے انھیں درائع ابلاغ سے رابطے کرنے میں نہ صرف آسانی تھی بلکہ ان کے پاس تمام تر وسائل بھی موجود تھے۔ لیکن آپریشن کے باعث ان سے وہ علاقہ خالی کرا لیا گیا ہے جس کی وجہ سے اب انھیں اسی طرح کا دوسرا ٹھکانہ تلاش کرنے میں وقت درکار ہوگا اور شاید اسی وجہ سے ان کے میڈیا سے رابطے کم ہوگئے ہیں۔

کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آپریشن کے آغاز پر فوج اور اہم حکومتی عہدیداروں کی طرف سے اس طرح کے بیانات جاری کیے گئے جس سے ایسا تاثر سامنے آیا کہ جیسے حالیہ آپریشن صرف غیر ملکیوں کے خلاف ہو رہا ہے اور ٹی ٹی پی ہدف نہیں۔ گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان نے بھی بی بی سی کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں اس بات پر زور دیا تھا کہ آپریشن ضرب عضب کا مرکزی ہدف غیر ملکی دہشت گرد ہیں۔

اس کے علاوہ آپریشن کے دوران اب تک فوج کی طرف سے چار سو کے قریب عسکریت پسندوں کے مارے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ تاہم مقامی ذرائع سے ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہو رہی اور نہ ہی میڈیا کو اس بارے میں کوئی ثبوت پیش کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مرنے والوں میں کسی اہم کمانڈر کا نام سامنے نہیں آیا اور نہ ہی طالبان کی جانب سے اس بات کی کوئی تصدیق کی گئی ہے کہ لڑائی میں ان کا کوئی جنگجو مارا گیا ہے۔

بعض قبائلی ملکان کا کہنا ہے کہ فوج اور تحریک طالبان کا ابھی تک براہ راست تصادم نہیں ہوا ہے۔ تاہم آپریشن کا دائرہ جب شمالی وزیرستان کے دور دراز علاقوں تک پھیلے گا تو امکان ہے کہ اس وقت دونوں جانب سے شدید لڑائی ہوگی۔

اسی بارے میں