فوجی آپریشن کے بعد قبائلی علاقوں کا مستقبل کیا ہو گا؟

Image caption ترقی کے لحاظ سے قبائلی علاقوں کا شمار ملک کے پسماندہ ترین علاقوں میں ہوتا ہے

پچھلے تین ہفتوں سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایک مرتبہ پھر فوجی کارروائی زور و شور کے ساتھ جاری ہے، ہر شدت پسند کو نشانہ بنانے اور شمالی وزیرستان کو ان سے مکمل طور پر صاف کرنے کی بات ہو رہی ہے لیکن اکثر سول و فوجی تجزیہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ حکومت اس بارے میں مکمل طور پر خاموش ہے کہ فوجی کارروائی کے بعد کیا ہونا چاہیے۔

قبائلی علاقوں میں ایک طویل عرصے سے تاخیر کا شکار سیاسی و قانونی اصلاحات کے لیے نہ تو کوئی ہوم ورک دکھائی دے رہا ہے اور نہ کوئی کوشش۔

ترقی کے اعتبار سے پسماندہ قبائلی علاقوں کے مسئلے کو ایک مرتبہ پھر محض امنِ عامہ کی عینک کے ذریعے دیکھا جا رہا ہے۔ ماضی کی کئی فوجی کارروائیوں کی طرح اس مرتبہ بھی سیاسی و فوجی قیادت کا ہدف شدت پسندوں کا صفایا ہے۔

اس کے بعد کیا کیا جانا ہے، کیا منصوبہ بندی ہے اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کی جا رہی ہے۔ سیاست دانوں میں بھی کوئی انقلاب لانے کے خواب دیکھ رہا ہے تو کوئی انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن قبائلی علاقوں کا اصل مسئلہ یعنی وہاں کی اصلاحات کسی کے ذہن پر نہیں ہیں۔

معروف وکیل اور حقوق انسانی کا کارکن عاصمہ جہانگیر کہتی ہیں کہ قبائلی علاقوں کے مسائل کے نہ حل ہونے کا سلسلہ قیام پاکستان سے شروع ہوتا ہے۔

’ڈیورنڈ لائن بھی نہ صرف پورے ملک بلکہ ان (قبائلیوں) کا بھی مسئلہ ہے۔ اس کے حل کے لیے آج تک کوئی کوشش کامیاب ثابت نہیں ہوئی ہے۔ وہاں معیشت یا بلیک اکانومی کا بڑا مسئلہ ہے، اس کے خاتمے پر کوئی توجہ نہیں ہے۔‘

قبائلی علاقوں سے وابستہ ایک اور بنیادی سوال اس کی حیثیت کا ہے۔ اس پر بھی آج تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش ہوئی ہے۔

عاصمہ جہانگیر پوچھتی ہیں کہ ’قبائلی علاقے خیبر پختونخوا کا حصہ ہیں، وہ جن تجربات سے گزرے ہیں وہ شاید اپنی ایک شناخت بنا چکے ہیں۔ تو وہ اپنا ایک صوبہ مانگیں گے۔ تو یہ بہت بڑا چیلنج ہے نہ صرف وفاقی حکومت بلکہ صوبائی حکومت کے لیے بھی، اگرچہ وہ کہتی ہے کہ یہ اس کا مسئلہ نہیں ہے۔‘

جہاں تک بات ہے شدت پسندی کے خاتمے کی، تو اب تک کے بار بار کے آپریشن کرنے کے باوجود اس میں افاقہ نہیں ہوا ہے۔ شدت پسندی اور طالبان پر کتابوں کے مصنف حسن عباس کہتے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں مقامی پولیس جیسے نظام کے قیام سے ہی فوجی کارروائی کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔

’قانون نافذ کرنے اور مقامی اور سویلین نظام مضبوط کرنے کی انتہائی ضرورت ہے۔ فوج تو صرف گولی مارتی ہے لیکن اگر پولیس ہے تو وہ تفتیش کرتی ہے، ثبوت اکٹھے کرتی ہے اور پھر عدالت میں لے کر جاتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قبائلی علاقوں کے مسئلے کو ایک مرتبہ پھر محض امنِ عامہ کی عینک کے ذریعے دیکھا جا رہا ہے

ماضی میں جو گنی چنی چند اصلاحات متعارف کروائی بھی گئیں ان کا بھی مناسب تیاری نہ ہونے کی وجہ سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا۔ عاصمہ جہانگیر کہتی ہیں کہ ’وہاں کے دانشور دو باتیں کرتے تھے کہ جب ملک کا نظام ختم کیا گیا لیکن متبادل نظام نہیں آیا تو اس خلا کو شدت پسندوں نے بھرا۔ اگر اسی طرح ایف سی آر ختم کریں گے اور متبادل نظام نہ دیا تو پھر مسئلہ ہوگا۔‘

سیاہ کہلائے جانے والے قانون کے خاتمے کی جانب فی الحال کوئی پیش رفت نہیں ہے۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد سعد کہتے ہیں کہ فوج شمالی وزیرستان میں عمل داری تو قائم کر دے گی لیکن اس سے آگے حکومت کیا ارادے رکھتی ہے اس بارے میں کوئی پیش رفت نہیں دیکھی ہے۔

قبائلی علاقوں میں سیاسی و قانونی اصلاحات کی راہ میں کون کون رکاوٹ ہوسکتا ہے اس بابت بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد سعد کہتے ہیں کہ سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ، نوکر شاہی اور مقامی قبائلی عمائدین اپنے اپنے مفادات کی خاطر اس کی راہ میں روڑے اٹکا سکتے ہیں۔

قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے لیے دس بڑی سیاسی جماعتوں کی ایک کمیٹی گذشتہ کئی برسوں سے راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس سے بھی بظاہر کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔ اصلاحات کی جانب حکومت کی توجہ کتنی ہے اس ضمن میں کچھ کہنا زیادہ مشکل نہیں۔

اسی بارے میں