پروفیسر اجمل خان اور دیگر مغوی تاحال لاپتہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پروفیسر اجمل خان کو سنہ 2010 میں اس وقت اغوا کر لیا گیا تھا جب وہ گھر سے یونیورسٹی جا رہے تھے

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بعد اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجمل خان سمیت دیگر مغویوں کے بارے میں تاحال کچھ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کہاں ہیں۔

شمالی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق آپریشن ضرب عضب شروع ہونے سے پہلے پروفیسر اجمل خان کی شمالی وزیرستان ایجنسی میں موجودگی کی اطلاعات تھیں لیکن آپریشن کے بعد سے ان کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے کہ انھیں طالبان ساتھ لے گئے ہیں یا انھیں کہیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

مقامی صحافی نور بہرام کے مطابق ان کے پاس ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ پروفیسر اجمل خان کو شمالی وزیرستان میں کہیں رکھا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ پروفیسر اجمل خان کے اغوا کے بعد تین ویڈیو جاری کی گئی تھیں جن سے ایسا کچھ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ وہ ویڈیو فلم شمالی وزیرستان میں کہیں ریکارڈ کی گئی ہوں۔

پروفیسر اجمل خان کے خاندان کے افراد اس بارے میں ذرائع ابلاغ سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔

ان کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ خاندان کے افراد موجودہ صورت حال میں سخت پریشان ہیں اور وہ ان کی بخیریت بازیابی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔

اجمل خان کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ ان کی بازیابی ہونے کو تھی کہ اچانک دونوں جانب سے بعض معاملات کی وجہ سے معاہدہ طے نہیں پا سکے تھے۔

طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے قائم طالبان اور حکومتی کمیٹیوں نے ان مغویوں کی بازیابی کے لیے بات چیت ہوئی تھی۔ ان مذاکرات میں طالبان نے خواتین، بوڑھے اور بچوں کی بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔

اس سال مارچ میں مذاکرات کے دوران حکومتی کمیٹی اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹی نے ان فہرستوں کا تبادلہ کیا تھا جس میں دونوں جانب سے مطالبات سامنے رکھے گئے تھے۔

دہشت گردی کے واقعات پر تحقیق کرنے والے تجزیہ کار پروفیسر خادم حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان مغویوں کے بارے میں اگرچہ کچھ معلومات نہیں ہیں لیکن عام طر پر دیکھا گیا ہے کہ اس طرح کے موقع پر طالبان ایسے افراد کو اثاثے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

پروفیسر اجمل خان کو سنہ 2010 میں اس وقت اغوا کر لیا گیا تھا جب وہ گھر سے یونیورسٹی جا رہے تھے۔

اس کے بعد کالعدم تنظیم تحریک طالبان نے ان کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی اور پھر ان کے ویڈیو پیغامات جاری کیے گئے تھے۔

اجمل خان کے ہمراہ ان کے ڈرائیور کو بھی اغوا کیا گیا تھا جسے گزشتہ سال بازیاب کرا لیا گیا تھا۔

اسی بارے میں