سرکاری وکیل قتل کیس میں ملزم کی ضمانت منظور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تین مئی 2013 کو چوہدری ذوالفقار علی کو اسلام آباد میں ہدف بنا کر ہلاک کر دیا گیا تھا

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی اور سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے مقدمے میں سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار علی کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزم کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے ملزم کی ضمانت طبی بنیادوں پر منظور کی ہے۔

قتل کیس میں ایک ملزم گرفتار

مقامی پولیس کے مطابق ملزم عبداللہ عمر ایک مقامی یونیورسٹی میں طالب علم تھے جبکہ ان کے والد کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج عتیق الرحمنٰ نے ملزم کی ضمانت سے متعلق دائر ہونے والی درخواست کی سماعت کی تو ملزم کے وکیل بشارت اللہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کو کمر میں گولی لگی تھی اور اس کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہیں۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار کے قتل کے موقعے پر ان کے سکیورٹی گارڈ کی طرف سے فائرنگ کے نتیجے میں ملزم عبداللہ عمر کی کمر میں گولی لگی تھی، تاہم ان کےساتھی ملزم کو گاڑی میں ڈال کر راولپنڈی کے ہسپتال لے گئے تھے جہاں پر وہ کچھ عرصہ زیر علاج رہے۔ پولیس نے انھیں ہسپتال سے ہی گرفتار کیا تھا۔

ملزم کے وکیل بشارت اللہ نے کہا کہ ڈاکٹروں نے ان کے موکل کے کچھ میڈیکل ٹیسٹ لکھ کر دیے تھے لیکن اڈیالہ جیل کے ہسپتال میں میڈیکل ٹیسٹ کروانے کی سہولت نہیں ہے اس لیے ان کے موکل کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضمانت کی درخواست منظور کی جائے۔

اس مقدمے کے سرکاری وکیل نے درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اتنے اہم مقدمات کے ملزم کی ضمانت منظور نہ کی جائے کیونکہ اس کے بیرون ملک فرار ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ اگر ملزم کی ضمانت منظور کی گئی تو ان اہم مقدمات کی تفتیش میں کوئی پیش رفت نہیں ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسلام آباد پولیس نے سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے مقدمے میں اب تک تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے

عدالت نے سرکاری وکیل کے دلائل سے اتفاق نہیں کیا اور ملزم کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انھیں دس دس لاکھ روپے کے چار ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

اس کے علاوہ ملزم عبداللہ عمر کا پاسپورٹ بھی عدالت میں جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد پولیس نے سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے مقدمے میں اب تک تین ملزمان کو گرفتار کیا ہے لیکن تمام ملزمان عدم ثبوت کی بنا پر رہا ہوگئے تھے۔ ان ملزمان میں سے ایک کو دوبئی سے گرفتار کر کے واپس لایا گیا تھا۔

ملزم عبداللہ عمر کے وکیل بشارت اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے جان بوجھ کر ان کے موکل کو شہباز بھٹی کے قتل کے مقدمے میں ملوث کیا ہے جبکہ ان کے پاس شواہد موجود نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پولیس کی طرف سے عدالت میں پیش کیے جانے والے اس مقدمے کے چالان میں کہیں پر بھی عبداللہ عمر کے ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔

اسی بارے میں