’پاکستانی صحافی کی رہائی کے لیے کوششیں جاری‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستانی پرائیوٹ ٹی وی نیوز چینل اے آر وائی کے رپورٹر فیض اللہ خان کو رواں برس 25 اپریل کو پاکستانی سرحد سے ملعقہ افغان شہر نگرہار میں مقامی پولیس نے اس وقت حراست میں لیا تھا جب وہ ٹی وی انٹرویو کرکے واپس پاکستان آ رہے تھے

پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان میں ایک پاکستانی ٹی وی چینل کے رپورٹر فیض اللہ خان کی رہائی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ فیض اللہ خان کو حال ہی میں غیرقانونی طور پرافغانستان میں داخل ہونے کے الزام میں ایک مقامی عدالت نے چار سال قید کی سزا سنائی ہے۔

اسلام آباد میں دفترِ خارجہ کی خاتون ترجمان تسنیم اسلم نے اس بارے میں کہا ہے کہ سزا کےخلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل کرنے پر غور جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ کابل میں پاکستانی سفارت خانے سے کہا گیا ہے کہ وہ صحافی فیض اللہ کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے لائیں۔

پاکستانی پرائیوٹ ٹی وی نیوز چینل اے آر وائی کے رپورٹر فیض اللہ خان کو رواں برس 25 اپریل کو پاکستانی سرحد سے ملحقہ افغان شہر نگرہار میں مقامی پولیس نے اس وقت حراست میں لیا تھا جب وہ ٹی وی انٹرویو کرکے واپس پاکستان آ رہے تھے۔

افغان پولیس نے پاکستانی صحافی فیض اللہ پر بغیر پارسپورٹ اور ویزہ کے غیرقانونی طور پرافغانستان میں داخل ہونے کا مقدمہ قائم کیا تھا جس پر نگرھار کی ایک مقامی عدالت نے انھیں 8 جولائی کو چار سال قید کی سزا سنائی۔

فیض اللہ کے وکیل حمید اللہ ایڈوکیٹ نے بتایا ہے کہ وہ مذکورہ سزا کے خلاف جلد ہی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے تاکہ عید سے پہلے سزا کوختم کرکے فیض اللہ کی رہائی کو ممکن بنایا جا سکے۔

انھوں نے بتایا کہ افغان پولیس نے فیض اللہ سے بعض ایسے مواد برآمد ہونے کادعویٰ کیاہے کہ جس کے منظرِ عام پر آنے سے پاک افغان تعلقات مزید کشیدہ ہوسکتےتھے۔

جلال آباد میں بی بی سی پشتوسروس کے نامہ نگار نعمت اللہ کریاب کے مطابق فیض اللہ خان جس وقت گرفتار ہوئے اس وقت ان کے پاس ایک ٹی وی کمیرہ اور اے آر وائی ٹی وی کا لوگو تھا۔

پولیس کو فیض اللہ کے کیمرے سے تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کا ایک انٹرویو ملا ہے تاہم مذکورہ انٹرویو میں طالبان ترجمان نے افغانستان کے بارے میں کوئی ایسی متنازع بات نہیں کی۔

کراچی میں اے آر وائی ٹی وی کے سینیئر نائب صدر عماد یوسف نے بی بی سی کو بتایا کہ فیض اللہ خان نے افغانستان جانے کے بارے میں انتظامیہ کو مطلع نہیں کیا تھا۔ تاہم انھوں نے کراچی سے نکلتے وقت صرف یہ کہا تھا کہ وہ پہلے پشاور اور پھر وہاں سے قبائلی علاقے جا کرکچھ انٹرویو کریں گے۔

عماد یوسف کےمطابق فیض اللہ خان سے آخری بار 23 اپریل کو موبائل فون پر بات ہوئی تھی جس میں فیض اللہ خان نے بتایا کہ وہ پاکستانی حدود میں خیریت سے ہیں۔

عماد یوسف کے مطابق 27 اپریل کو افغانستان سے ہمارے پشاور آفس کے بیور چیف ضیا کوفون آیا کہ فیض اللہ خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اپنے ساتھی کی رہائی کے لیے مختلف کوششوں کاذکر کرتے ہوئے عماد یوسف نے کہا کہ جیسے ہی انھیں فیض کی گرفتاری کی اطلاع ملی تو (اے آر وائی) انتظامیہ نےاس کو زیادہ اچھالنے کی بجائے بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں قبائلی سردار اصغرخان اچکزئی سمیت اسلام آباد اور افغانستان میں بااثرشخصیات کے ساتھ رابطہ کیا۔

عماد یوسف نے مزید بتایا کہ اے آر وائی کی انتظامیہ اسلام آباد میں وزارتِِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم اور افغان سفارتی حکام سےمسلسل رابطے میں رہی۔

یہاں دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تورخم اور چمن سرحدی پوائنٹ پر بغیردستاویزات کے ہزاروں افراد روزانہ سرحد کےدونوں اطراف آتے جاتے رہتے ہیں لیکن کسی پاکستانی صحافی کو افغانستان میں چال سال قید کی سزا پہلی بار ہوئی ہے۔