پی پی او کے خلاف درخواست سماعت کے لیے منظور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گلو بٹ جیسے کرداروں کو لامحدود اختیارات مل سکتے ہیں: جمشید دستی

شدت پسندی اور سنگین جرائم کے سدباب کے لیے حال ہی میں پورے ملک میں لاگو ہونے والے قانون تحفظ پاکستان ایکٹ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔

یہ قدم آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے اٹھایا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور کاسی نے جمشید دستی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو ابتدائی سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے اور جسٹس نور الحق قریشی پندرہ جولائی سے اس درخواست کی سماعت کریں گے۔

اس قانون کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس قانون کو سیاسی مخالفین کے لیے استعمال کیا جائے گا اور اس کے علاوہ یہ قانون بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کے تحت ’گلو بٹ جیسے کرداروں کو لامحدود اختیارات مل سکتے ہیں۔‘

درخواست میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس سے پہلے بھی ملک میں انسداد دہشت گردی ایکٹ سنہ 1997 بھی بنا تھا جس کے تحت سات ہزار سے زائد افراد کو متعلقہ عدالتوں نے موت کی سزا دی ہوئی ہے لیکن ابھی تک ان سزاؤں پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

درخواست گزار جمشید دستی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحفظ پاکستان ایکٹ سے دہشت گردوں کی بجائے سیاسی مخالفین اور عام لوگوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بےتحاشا اختیارات دیے گئے تھے جس میں اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ ان اداروں کے اہلکار ان اختیارات کا غلط استعمال کریں گے۔

جمشید دستی کا کہنا تھا کہ اس قانون پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے لیکن پاکستان میں سیاسی جماعتوں نے اس پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور ان سیاسی جماعتوں کے رویے کی وجہ سے ہی تحفظ پاکستان بل پارلیمنٹ سے منظور ہو کر قانون کا درجہ اختیار کر گیا۔

ابتدائی طور پر یہ قانون دو سال کے لیے نافذ العمل ہوگا اور اس کے تحت کسی بھی مشتبہ شخص کو 60 روزہ جسمانی ریمانڈ پر تحویل میں رکھا جا سکے گا۔

اس قانون کے تحت دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث افراد کے علاوہ اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہو سکے گی۔ اس قانون کے تحت درج ہونے والے مقدمات کی سماعت کے لیے عدالتوں کے قیام کے ضمن میں اعلیٰ عدلیہ سے مشاورت جاری ہے۔

یاد رہے کہ جمشید دستی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس بل کی مخالفت کی تھی جبکہ حزبِ مخالف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اس بل کی مخالفت یا حق میں ووٹ نہیں دیا تھا، جب کہ جماعت اسلامی نے اس قانون پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اُنھوں نے بھی اس قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ جمشید دستی نے پارلیمنٹ لاجز میں رہائش پذیر ارکان پارلیمنٹ پر شراب نوشی اور زنا کاری کا الزام عائد کیا تھا اور اس کے بارے میں سپیکر قومی اسمبلی نے شیخ راحیل اصغر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ البتہ جمشید دستی ان الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہے تھے۔

اسی بارے میں