صحافی فیض اللہ کی رہائی کے صحافیوں کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صحافیوں نے افغان صدر سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں

افغانستان میں بغیر سفری دستاویزات کے داخلے کے جرم میں سزا پانے والے پاکستانی صحافی فیض اللہ کی رہائی کے لیے منگل کراچی یونین آف جرنلسٹ اور کراچی پریس کلب کی جانب سے مشترکہ احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔

اس مظاہرے میں شریک صحافیوں نے فیض اللہ کی فوری رہائی کے افغان حکومت سے اپیل کی۔

کراچی پریس کلب کے سیکریٹری عامر لطیف نے اس موقعے پر کہا کہ فیض اللہ کے خلاف جاسوسی کے الزامات کو افغان عدالت نے مسترد کردیا ہے اب ان کی سزا کا جواز اس لیے نہیں کیونکہ پاکستان افغانستان کے درمیان سرحد ہے پورس ہے اور لوگ اس کے آر پار جاتے رہتے ہیں۔ انھوں نے افغان صدر سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں۔

دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پاکستان کی حکومت نے فیض اللہ کی رہائی کے لیے اب تک افغان حکومت سے باضابطہ بات نہیں کی ہے البتہ وہ اپنے صحافی کی رہائی چاہتے ہیں اور اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور فیض اللہ کے وکلاء اور خاندان کے افراد سے رابطے میں ہیں۔ فیض اللہ کے وکلاء اس فیصلے کے خلاف اپیل کررہے ہیں۔

تاہم اس بارے میں اے آر وائی نیٹ ورک کے سی ای او سلمان اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں دفترِ خارجہ کے ترجمان کے بیان پر حیرت ہوئی ہے۔

انھوں نے سوال کیا کہ کیا کابل میں موجود پاکستان کا سفارت خانہ دفترِ خارجہ کے ماتحت نہیں ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پہلے دن سے وہ اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں اور کابل میں پاکستان کے سفیر نے افغان حکومت کو اس معاملے پر خط بھی لکھا جس کا جواب بھی آیا۔

سلمان اقبال نے کہا کہ یا تو ترجمان اس بات سے واقف نہیں یا پھر یہ کام کے جونیئر افسران کررہے ہوں گے۔

سلمان اقبال کے مطابق فیض اللہ کے لیے وکیل کا انتظام بھی پاکستانی سفارت خانے نے کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر اے آر وائی نے اپنا وکیل کیا تو افغان حکومت پر دباؤ نہیں پڑے گا۔

سلمان اقبال کے مطابق فیض اللہ کو سزا ہونا اس لیے بھی حیران کُن ہے کیونکہ لاکھوں افغان باشندے پاکستان میں بغیر دستاویزات کے رہ رہے ہیں توکیا پاکستان کی حکومت سب کو گرفتار کرلیتی ہے۔

اسی بارے میں