موبائل پر ’غیر مردوں سے باتیں‘ کرنے پر بہن کا قتل

Image caption پولیس کے مطابق ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا میں ضلع دیر لوئر کے علاقے جندول میں مبینہ طور پر غیر مردوں کے ساتھ موبائل فون پر باتیں کرنے پر بھائی نے اپنی 13 سالہ بہن کو گولیاں مارکر ہلاک کر دیا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق تھانہ ثمر باغ کے حدود میں واقعے گاؤں قاشوڈل میں جمشید نامی لڑکے نے اپنی 13 سالہ بہن کمشن کوغیر مردوں سے باتیں کرنے پر شک کی بنا پر قتل کردیا ہے۔

تھانہ ثمر باغ کے محرر نوید نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم جمشید کو شک تھا کہ اس کی بہن غیر مردوں سے موبائل فون پر باتیں کرتی تھی۔

پولیس کے مطابق مقتولہ کی والدہ نے تھانے میں رپورٹ درج کراتے ہوئے بتایا کہ واقعہ منگل کی رات 11 بجے اس وقت پیش آیا جب 13 سالہ کمشن گھر کے صحن میں سو رہی تھی اور اس کے بھائی جمشید نے اس کے کان میں گولیاں ماریں۔

پولیس کے مطابق ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مالاکنڈ ڈویژن میں اس سے پہلے بھی غیرت کے نام پر قتل کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

مئی سنہ 2012 میں کوہستان کے علاقے میں ایک موبائل ویڈیو کا تبادلہ ہونا شروع ہوا جس میں کچھ خواتین اور مرد رقص اور تالیاں بجاتے ہوئے نظر آئے۔

مبینہ طور پر خواتین کے خاندان کے چند مردوں نے طے کیا کہ یہ حرکت باعث شرمندگی ہے اور اطلاعات کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والی چاروں خواتین کو مار دیا گیا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں غیرت کے نام پر خواتین پر تشدد اور انھیں قتل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور اطلاعات کے مطابق پاکستان میں ہر سال 1,000 سے زائد خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں