ہنگو: دھماکے میں چار بچوں سمیت پانچ افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والے افراد کی لاشیں بدستور سڑک کے کنارے پڑی ہوئی ہیں اور بم ڈسپوزل سکواڈ کی جانب سے علاقہ کلئیر کیے جانے کے بعد ہی لاشیں ورثا کے حوالے کی جائیں گی

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک گھر کے سامنے یکے بعد دیگرے ہونے والے دو بم دھماکوں میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح ہنگو شہر سے تقریباً 30 کلومیٹر دور زرگیری روڈ پر دورڑی کے مقام پر پیش آیا۔

توغ سرائے پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار آصف نے بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم افراد کی طرف سے سڑک کے کنارے دیسی ساختہ بم نصب کیا گیا تھا جس کے پھٹنے سے معمولی نوعیت کا دھماکہ ہوا۔

انھوں نے کہا کہ پہلے دھماکے کے بعد وہاں قریبی مکانات کے کئی بچے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے جس کے ساتھ ہی ایک اور دھماکہ ہوا۔

ان کے مطابق دھماکوں میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں چار بچے بتائے جاتے ہیں جن کی عمریں آٹھ سے دس سال کے درمیان ہیں۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ مرنے والے افراد کی لاشیں بدستور سڑک کے کنارے پڑی ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بم ڈسپوزل سکواڈ کی جانب سے علاقہ کلئیر کیا جا رہا ہے جس کے بعد لاشیں ان کے ورثا کے حوالے کی جائیں گی۔

دورڑی بانڈہ میں ایک عینی شاہد غازی خان نے بتایا کہ مرنے اور زخمی ہونے والے تین بچوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان بچوں کے والد امین گل تبلیغی جماعت کے ساتھ گئے ہوئے ہیں اور انھیں نہیں معلوم کہ ان کے بچے اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

تاہم اس واقعے کی فوری طور پر وجہ معلوم نہیں ہو سکی اور نہ ہی کسی تنظیم کی طرف سے اس کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ دورڑی بانڈہ ہنگو شہر کا ایک مضافاتی گاؤں ہے۔ یہ علاقہ اورکزئی ایجنسی کے قریب بھی پڑتا ہے۔

اسی بارے میں