’دو لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو قطرے پلائے گئے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption والدین اپنے بچوں کو بغیر ہچکچاہٹ کے پولیو کے قطرے پلوا رہے ہیں: ڈاکٹر بلال

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے بچوں میں سے دو لاکھ چالیس ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوائے گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں یونیسف کے پولیو پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر بلال احمد نے بی بی سی کو بتایا ’آئی ڈی پیز کی نقل مکانی مکمل ہو چکی ہے تاہم اب بھی روزانہ کی بنیاد پر دو سے چار ہزار بچوں کو پولیو ویکسین دی جا رہی ہے جبکہ ابتدا میں بچوں اور بڑوں دونوں کو ویکسین پلائی گئی تھی۔‘

ڈاکٹر بلال احمد نے بتایا کہ پاکستان میں اس سال پولیو کیسز کی کل تعداد 95 ہو گئی ہے، جن میں سے 56 کیسز شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ فاٹا اور خیبر پختونخوا میں بنوں، ڈی آئی خان اور ٹانک سمیت مختلف علاقوں میں داخلی پوائنٹس قائم ہیں جہاں اب تک دو لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین دی گئی ہے۔

شمالی وزیرستان سے عوام کی نقل مکانی کی وجہ سے پولیو کے پھیلنے سے متعلق سوال کے جواب میں یونیسف کے پولیو پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر بلال نے کہا ’بہت زیادہ خطرہ ہے، بنوں میں سامنے آنے والے 9 کیسز میں سے زیادہ تر کی تشخیص کے دوران پتہ چلا کہ ان میں پولیو وائرس شمالی وزیرستان سے منتقل ہوا۔‘

ایف آر بنوں اور فاٹا سے لوگوں کی بڑی تعداد نے نقل مکانی کی ہے اور وہاں اب متاثرین کی آمدو رفت کم ہوگئی ہے اور خیبر پختونخوا میں موجود چیک پوائنٹس پر یہ آمد و رفت نسبتاً زیادہ ہے۔

یونیسف کے پولیو کے بارے میں پروگرام کے سربراہ نے بتایا ’متاثرین کی نقل مکانی کے بعد سے اب تک ان کے رہائشی علاقوں میں پانچ پولیو مہمات چلائی جا چکی ہیں اور یہ باعثِ خوشی ہے کہ والدین اپنے بچوں کو بلا کسی ہچکچاہٹ کے پولیو کے قطرے پلوا رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بنوں میں پولیو کے خلاف تین روزہ مہم ہوتی ہے جبکہ دیگر اضلاع میں یہ مہم ایک دن کی ہوتی ہے، بنوں میں پولیو کے قطرے پلانے کی آخری مہم 11 جولائی سے ہوئی تھی۔

اگرچہ سرکاری سطح پر رجسٹرڈ آئی ڈی پیز کی تعداد 9 لاکھ سے زیادہ بتائی گئی ہے تاہم اس تعداد کے بارے میں وہاں کام کرنے والےملکی اور عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ نادرا کی مدد سے رجسٹرڈ متاثرین کی حتمی تصدیق بھی کی جا رہی ہے کیونکہ یہ تعداد اندازے کے اعتبار سے غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔

فاٹا ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کی ویب سائٹ پر جاری کردہ تفصیلات میں پناہ گزینوں کی کل تعداد 9,92,776 ہے جن میں 4,52,225 بچے شامل ہیں۔تاہم پولیو کی ویکسین تقریباً ڈھائی لاکھ بچوں کو پلوائی جا سکی ہے جس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے نصف بچے پولیو سے بچاؤ کی ویکسین سے محروم رہ گئے ہیں۔

اسی بارے میں