’ 23 جون کو میں اسی قید میں 15 سال کی ہوئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہمارے سکول میں پشتو اور عربی پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے اور انگلش کا تو اللہ ہی حافظ ہے

شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں بےگھر ہونے والوں میں مذہبی اقلیتوں کے افراد بھی شامل ہیں۔ ایسی ہی ایک عیسائی بچی سول کالونی میران شاہ کی رہائشی ہے جو نقل مکانی کر کے اپنے خاندان سمیت بنوں پہنچی ہے۔ اس کی بی بی سی سے گفتگو یہاں اسی کی زبانی تحریر کی جا رہی ہے۔

میرا نام مشیل امانوئل ہے اور میں دسویں جماعت کی طالبہ ہوں۔

ہمارا گھر بہت ہی خوبصورت جگہ پر ہے۔ ویسے تو میران شاہ خاصا خشک علاقہ ہے لیکن جہاں ہمارا گھر ہے وہ کالونی بہت پیاری ہے۔ بہت پیاری جگہ تھی، پہلے وہاں ہریالی تھی۔ لیکن جب آرمی والوں نے آ کر اپنے مورچے بنائے تو انھوں نے جتنے بھی درخت تھے سب کاٹ دیے اور بڑی بڑی دیواریں کھڑی کر دیں۔ اب جیسی ہریالی اور امن تھا وہ نہیں رہا۔

پہلے ہم لوگ بہت خوش رہتے تھے، وہاں پر مگر اب ڈر لگا رہتا ہے۔ ایسے میں بابا لوگ جب بازار جاتے ہیں تو یہی ڈر لگا رہتا ہے کہ ابھی فائرنگ نہ ہو جائے، بازار میں ایسا ویسا نہ ہو جائے۔ اس وجہ سے ہم لوگ بازار بھی نہیں جاتے۔ اور جب تک کوئی سیرئیس بیمار نہ ہو تو کسی کو ہسپتال بھی نہیں لے کر جاتے۔ پھر اس وجہ سے ڈر ہی لگا رہتا ہے۔

ہاں یہ ہے کہ پہلے بہت زیادہ ڈرتے تھے اور اب کسی حد تک عادی ہو گئے ہیں۔ اوپر سے گولیاں گزرتی رہتی ہیں، ہم لوگ صحن میں بیٹھے رہتے ہیں۔

ہمارے بچے ڈرون کو دیکھ کہ اب خوش ہوتے ہیں ’ارے یہ تو جہاز ہے، یہ تو جسوسی (ڈرون) نہیں ہے یہ جہاز ہے۔‘ ہمارے بچے ابھی نہیں ڈرتے کیونکہ دھماکوں کے عادی ہو چکے ہیں۔

ہر پانچ دن بعد یا چھ دن بعد ایک دھماکہ ضرور ہونا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ہمارے بچے ابھی عادی ہو چکے ہیں ۔دھماکہ ہوتا ہے وہ لوگ کہتے ہیں ’اوئی وہاں پہ دھماکہ ہوا دیکھو دھواں بھی اٹھ رہا ہے‘

پڑھائی پر بہت فرق پڑ گیا ہے۔ آٹھویں کے امتحان دیے تھے تو سکول بند ہو گئے تھے۔ دہشت گردی کی وجہ سے کہا گیا کہ لڑکیاں نہیں پڑھیں گی، صرف لڑکوں کے سکول کالج کھلے ہوئے تھے۔ لڑکیوں کا کالج بھی بند، سکول بھی بند، آنا جانا بھی بند۔

میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ آپریشن کے بعد سکول کالج کھل جائیں گے۔ ابھی پھر بھی پتہ نہیں۔

ہمارے سکول میں زیادہ تر لڑکیاں مسلمان ہیں، کرسچن اور دوسرے مذہبوں کی لڑکیاں کم ہیں، اس لیے ہماری زیادہ سہیلیاں مسلمان ہیں جو ہمارے ساتھ بہنوں کی طرح رہتی ہیں۔

وہ ہمیں احساس ہی نہیں دلاتیں کہ ہم مسلم نہیں ہیں۔

ہمارے سکول میں پشتو اور عربی پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے اور انگلش کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ انگلش اتنی زیادہ اچھے طریقے سے نہیں پڑھا سکتے ۔لڑکوں کا سکول اچھا ہے وہاں پہ اچھے طریقے سے اردو، میتھ، سب کچھ ہوتا ہے، لیکن ہمیں کہتے ہیں کہ پشتو اور عربی سیکھنی زیادہ ضروری ہے۔ انگلش کا کیا کرنا ہے تم لوگوں نے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کیک کاٹنے سے پہلے یہی دعا مانگی کہ ہمارے علاقے میں اچھے طریقے سے امن امان ہو جائے اور ہم گھر واپس چلے جائیں

وہاں سیر کرنے کی جگہ تو ہے ہی نہیں۔ کیونکہ ہم لوگ برقع اوڑھتے ہیں۔ وہاں پہ تو ایسا ہے نا کہ ہم لوگ برقعے کے بغیر باہر نہیں جا سکتے۔ جیسے ہی بچی دس یا بارہ سال کی ہوتی ہے تو برقع پہنانا ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ وہاں کے کلچر کے مطابق ہے اور کلچر نہ اپناؤ تو اچھا نہیں لگتا۔ جب سب پہنتے ہیں تو خود کو بھی شرم آتی ہے کہ انھوں نے پہنا ہے ہم نے نہیں پہنا۔

اور سیر کی تو جگہ ہی نہیں ہے ۔ نہ پارک ہے، نہ لیڈیز پارک۔ ہوتا ہے نا لیڈیز پارک؟

ایسا کچھ بھی نہیں ہے وہاں پر۔

میں نےجب پہلی بار برقع پہنا تھا تو میں اپنے آپ پہ خود ہی ہنستی تھی۔ میرا دل نہیں تھا برقع پہننے کو، لیکن ابو کہتے تھے کہ اگر ہم نہیں پہنتے تو وہ لوگ برا مناتے ہیں۔ یہ نہیں کہتے کہ ضرور پہنو، لیکن کہتے ہیں کہ یہ کرسچن لوگ ہیں، یہ لوگ پردہ نہیں کرتے۔

پردہ تو کرسچن لوگ بھی کرتے ہیں۔ لیکن یہ کہ پھر ہمیں ان کے مطابق برقع پہننا پڑتا ہے۔

وہاں پہ برقع اس طرح سے ہے جیسے روٹی کھانا۔

بڑی ہو کر میں نرسنگ میں جانا چاہتی ہوں۔ لیکن جیسی پڑھائی جا رہی ہے میران شاہ کی۔ دیکھیں گے۔ سکول تو ایک سال ہو گیا ہے بند ہے۔ ہماری تو حکومت سے یہی اپیل ہے کہ لڑکیوں کا کالج اور سکول ضرور کھولیں کیونکہ اگر لڑکوں کو حق ہے مستقبل حاصل کرنے کا لڑکیوں کو بھی تو اتنا ہی حق ہے۔ لڑکیاں یہ نہیں کریں گی تو کہاں جائیں گی۔ انھوں نے جھاڑو تو پھیرنا نہیں ہے۔

یہاں (بنوں) میں گرمی بہت زیادہ ہے اور گھر سے دور ہونا تو آپ کو پتہ ہی ہو گا کتنی بڑی مشکل کی بات ہے۔ یہاں اچھی رہائش ہے مگر پھر بھی اپنا گھر یاد آتا ہے۔

میں 15 سال کی ہوں۔ میری سالگرہ اس قید میں بس ٹھیک ہی تھی۔ مگر جیسا میں نے سوچا تھا ویسے نہیں کر سکی۔ کچھ تو پیسوں کا مسئلہ تھا دوسرے اپنے گھر سے دور صحیح نہیں لگا سالگرہ منانا۔ ماں باپ نے میری خوشی کے لیے کیک کاٹا مگر اچھا نہیں لگا کیک کاٹنا۔ اپنے گھر سے دور کیک کاٹنا بہت مشکل لگا تھا، لیکن کیا کرتی۔ اگر میں یہ نہ کرتی تو میرے ماں باپ کا دل بھی خفا ہونا تھا۔

کیک کاٹنے سے پہلے یہی دعا مانگی کہ ہمارے علاقے میں اچھے طریقے سے امن امان ہو جائے اور ہم گھر واپس چلے جائیں۔

اسی بارے میں