کراچی میں حکومتی رٹ نظر نہیں آتی: ایچ آر سی پی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صوبے کی دو بڑی سیاسی جماعتیں مل کر ایسا لائہ عمل تیار کریں جس کے ذریعے معاملات درست کیے جا سکیں: ایچ آر سی پی

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھتہ وصولی عروج پر ہے لیکن حکومت کی رٹ کہیں نظر نہیں آتی ہے۔

کراچی میں بحالی امن کے لیے شروع کیے گئے ٹارگٹڈ آپریشن کے نتائج کے حقائق جاننے کے لیے انسانی حقوق کمیشن کے خصوصی جائزہ مشن نے یہ مشاہدات بیان کیے ہیں۔

اس مشن میں انسانی حقوق کمیشن کی چیئر پرسن زہرہ یوسف، سابق چیئر پرسن عاصمہ جہانگیر، حنا جیلانی اور آئی اے رحمان شامل تھے۔

کمیشن نے سیاسی جماعتوں، تاجروں، وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ، آئی جی سندھ پولیس غلام حیدر جمالی سے ملاقاتیں کیں تاہم ڈائریکٹر جنرل رینجرز نے اس مشن سے ملاقات سے انکار کردیا۔

انسانی حقوق کمیشن کے سیکریٹری جنرل آئی اے رحمان نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شہر کی علامات ایک سیاسی بحران کی عکاسی کرتی ہیں اور اس کو کوئی اپنانے کے لیے تیار نہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس کا حل صرف یہ ہے کہ صوبے کی دو بڑی سیاسی جماعتیں مل کر ایسا لائہ عمل تیار کریں جس کے ذریعے معاملات درست کیے جا سکیں۔

آئی اے رحمان نے بتایا کہ شہر میں بے بسی اور بے کسی کا عالم ہے اور اب لوگ اپنی شکایت کرنے سے بھی گریز کرتے ہیں اور خاص طور پر حکومت کے سامنے تو بہت ہی کم شکایت کی جاتی ہے کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ کچھ ہونا نہیں ہے۔

انھوں نے ملک کے سب سے بڑے شہر کی سول سوسائٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ساری صورت حال میں سول سوسائٹی کی جانب سے کوئی اقدام یا کوشش نظر نہیں آتی ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کے مشن نے بتایا کہ پولیس کے خلاف بھی شکایات موصول ہوئیں ہیں لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تو صرف پولسینگ کر رہے ہیں۔

پولیس حکام نے مشن کو کچھ اعداد و شمار بھی بتائے جس کے تحت آپریشن سے پہلے کے 310 دنوں کے مقابلے میں آپریشن کے بعد کے 310 دنوں میں ہلاکتوں اور جرائم میں کمی ہوئی ہے۔

مشن کے مطابق پولیس کے دعوے اور عوام کے پاس موجود تاثر میں بڑا فرق ہے جو اس کے برعکس ہے۔ اسی طرح رینجرز کے خلاف بھی شکایات تھیں۔

انسانی حقوق کمیشن کے وائس چیئرمین اسد بٹ کا کہنا تھا کہ ان شکایتوں میں یہ بھی شامل ہے کہ رینجرز نے لوگوں کو اٹھایا بعد میں ان کی لاشیں ویران علاقوں سے ملیں جبکہ اب بھی کچھ لوگ لاپتہ ہیں۔

آئی اے رحمان کا کہنا تھا کہ جب رینجرز لائی گئی تھی تو کوئی واضح حکمت عملی نہیں تھی کہ رینجرز اور پولیس کا تعلق کیسا ہوگا، اس کے رولز کیا ہوں گے اور رینجرز کب تک رہیں گے؟

انھوں نے مزید کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ اس عرصے میں جو دوسرے اداروں کو مضبوط کرنے پر کام ہونا چاہیے تھا اس پر توجہ نہیں دی گئی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک جامع منصوبہ بنایا جائے کیونکہ ایک غیر اعلانیہ مدت تک رینجرز کی تعیناتی اچھی نہیں ہوتی جو بھی فورس سویلین معاملات میں آئے گی تو اس کے ڈسپیلین کے مسائل سامنے آئیں گے۔

آئی اے رحمان نے بتایا کہ شہر میں بھتے کے معاملے میں کوئی بھی معصوم نہیں۔ جس کا جہاں زور چل رہا ہے وہ وہاں وصولی کرتا ہے، بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ تھوڑا بھتہ دیکر کام میں آسانی ہوجائے تو بھی ٹھیک ہے لیکن بھتے کی رقم میں اصافہ ہوگیا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کے مطابق یہ کہنا مشکل ہے کہ شہر کی سکیورٹی کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے یا وفاقی حکومت کی۔ جو مرکزی رہنما ہیں وہ فضائی دوروں کی بجائے یہاں تھوڑا رک کر صوبائی حکومت کے ساتھ معاملات کو درست کرنے کی کوشش کریں۔ یہاں حکام کرپٹ اور غیر ذمے دار ہیں ان میں مسائل حل کرنے کی صلاحیت نظر نہیں آتی ہے۔

اسی بارے میں