خیبر پختونخوا: پولیس اہلکاروں پر حملوں میں شدت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ماہ رمضان میں پولیس اہلکاروں پر بیشتر حملے افطاری اور یا سحری کے وقت کیے گئے ہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں گذشتہ دس برسوں کے دوران 1100 سے زیادہ پولیس اہلکار اور افسران ہلاک ہو چکے ہیں۔ رواں سال کے پہلے سات ماہ میں 70 اور صرف رواں ماہ جولائی میں اب تک دس اہلکار مارے جا چکے ہیں۔

اس ماہ رمضان میں پولیس اہلکاروں پر بیشتر حملے افطاری اور یا سحری کے وقت کیےگئے ہیں۔ پشاور کے بڑے رہائشی علاقےحیات آباد انڈسٹریل علاقے کی چوکی پر نامعلوم افراد نے دو نجی کمپنی کے اہلکاروں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

دو روز پہلے پشتخرہ کے علاقے میں چار اہلکار اور ایک ہوٹل کے ملازم کو اس وقت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا جب وہ افطاری کے لیے دستر خوان پر بیٹھے تھے۔ اسی طرح انھی دنوں میں متنی اور بالاماڑی کے علاقوں میں پولیس پر حملے ہوئے ہیں۔

اس سال اب تک 70 کے لگ بھگ پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 44 اہلکاروں کا تعلق فرنٹیئر کانسٹیبلری سے بتایا گیا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سنہ 2004 سے اب تک 1100 سے زیادہ اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کے لیے 2009 خونی سال ثابت ہوا جس میں دو سو سے زیادہ اہلکار ہلاک ہوئے۔ ان میں ایک سپرنٹینڈنٹ پولیس اور تین ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ پولیس افسران شامل تھے۔

انسپکٹر جنرل پولیس ناصر درانی کے مطابق اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث گروہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جو اس طرح کی وارداتوں کے بعد قبائلی علاقوں کی جانب واپس چلے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں دو سے تین گروہ ملوث ہیں جن میں درہ آدم خیل اور خیبر ایجنسی کے گروہ نمایاں ہیں۔

جب سے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع ہوا ہے اس کے بعد خیبر ایجنسی میں بھی سکیورٹی اہلکاروں اور خاصہ داروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد باڑہ اور جمرود کے علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کیے گئے ہیں۔

خیبر ایجنسی میں جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات شدت پسندوں کے حملے میں فرنٹیئر کور کے 11 اہلکار ہلاک ہو گئے تھے جبکہ حکام کے مطابق جوابی کارروائی میں تین شدت پسند مارے گئے تھے۔

ان دنوں خیبر ایجنسی کے مختلف مقامات پر سرچ آپریشن جاری ہے جس میں گرفتاریوں کی اطلاعات ہیں لیکن اب تک کوئی ایسی کامیابی حاصل نہیں ہوئی جس کی بنیاد پر تشدد کے یہ واقعات روکے جا سکیں۔

پشاور کے مقامی صحافی فیضان حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس حکام کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ تین بڑے گروہ ان واقعات میں ملوث ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ حملہ آور مکمل منصوبہ بندی سے آتے ہیں اور پولیس کی دفاعی صورتحال کو بھانپتے ہوئے کبھی سینے تو کبھی سر پر نشانہ لگاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو فراہم کی گئی بلٹ پروف جیکٹیں اور ہیلمٹ گولیاں روک نہیں پاتے یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ان جیکٹوں میں ملبوس اہلکار بھی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہےکہ پولیس اور سکیورٹی حکام کی پالیسیاں اپنے دفاع کے لیے ہیں اور ان میں بھی کمزوریاں پائی جاتی ہیں جس وجہ سے شدت پسند کامیاب کارروائیوں کے بعد فرار ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں