دو شدت پسندوں کی گرفتاری، اسلحہ برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملزمان نے جائے وقوعہ سے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم اسے ناکام بنا دیا گیا

راولپنڈی پولیس نے دو مبینہ دہشت گردوں کو حراست میں لے کر اُن کے قبضے سے آتش گیر مادہ اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ عید کے موقعے پر دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے ابتدائی تفتیش میں بتایا ہے کہ وہ پنجاب کے وسطی علاقوں میں شدت پسندی کی وارداتوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جس پر عمل درآمد کے لیے ان شہروں میں آتش گیر مادہ اور اسلحہ پہنچایا جا رہا تھا۔

راولپنڈی پولیس کے تھانہ چونترہ کے اہلکار نعمان احمد کے مطابق ملزمان، جن میں امیر اور نور خان شامل ہیں، ایک گاڑی پر صوبہ خیبر پختونخوا سے لاہور جارہے تھے کہ موٹر وے پر چکری روڈ کے قریب پولیس نے اُس گاڑی کو روکا اور گاڑی کی تلاشی کے دوران آتش گیر مادہ، 30 کے قریب کلاشنکوفیں، سنائپرگنیں اور 50 ہزار سے زائد گولیاں برآمد کر لیں۔

پولیس اہلکار کے مطابق ملزمان نے جائے وقوعہ سے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم اسے ناکام بنا دیا گیا۔ ملزمان کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے جہاں پر اُن سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

ملزمان سے تفتیش کرنے والی ٹیم میں خفیہ اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

حساس ادارے کے ایک اہلکار کے مطابق ملزمان نے دوران تفتیش یہ بھی بتایا ہے کہ شدت پسندوں کے منصوبوں میں حساس مقامات کو نشانہ بنانا شامل تھا۔

راولپنڈی کے ایس پی صدر سرکل غیاث گل کے مطابق گرفتار ہونے والے ملزمان شدت پسندوں کے مددگار ہیں اور وہ اُنھیں اسلحہ فراہم کرنے جا رہے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملزمان سے ہونے والی ابتدائی تفتیش کی روشنی میں کچھ نئی باتیں سامنے آئی ہیں تاہم ایس پی صدر سرکل نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

واضح رہے کہ خفیہ اداروں نے وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی رپورٹوں میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ شدت پسند شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کے خلاف جمعۃ الوداع اور عید الفطر کے موقعے پر دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں