’فاٹا اصلاحات پر جلد عمل درآمد کیا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان پیپلز پارٹی نے قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیاں شروع کیں: نفیسہ شاہ

پاکستان پیپلز پارٹی نے وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں میں قانون سازی کا اختیار صدر سے لیکر پارلیمان کو دینے سے متعلق جمع کروائی جانے والی قرارداد میں دیگر جماعتوں سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس ضمن میں پارٹی کے رہنما اور ارکانِ پارلیمان حزبِ مخالف اور حکومتی اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کے قائدین سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

ان ملاقاتوں کا مقصد قومی اسمبلی میں اس قرار داد کے حق میں ان جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکانِ قومی اسمبلی سید نوید قمر، ڈاکٹر عذرا پیچہیو اور ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں ایک قرارداد جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان کو فاٹا کے علاقوں میں قانون سازی کرنے کا حق دیا جائے اور اس ضمن میں آئین کے آرٹیکل 247 میں ترمیم کی جائے۔

آئین کے اس آرٹیکل کے تحت صدرِ مملکت صوبہ خیبر پختون خوا کے گورنر کے توسط سے فاٹا کے معاملات کو چلاتے ہیں اور اس بارے میں پارلیمان کو قانون سازی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

فاٹا میں اصلاحات لانے کے لیے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دس جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے فاٹا میں اصلاحات کے لیے 11 نکات پر اتفاق کیا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت نے قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیاں شروع کیں اور اس کے علاوہ دیگر اصلاحات کے لیے بھی اُن کی جماعت کام کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری آپریشن مکمل ہونے کے بعد اس علاقے میں انتظامی امور چلانے میں دشواریاں پیش آئیں گی جس کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہو گی۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت قبائلی علاقوں میں اصلاحات تجویز کرنے والے کمیٹی کے مینڈیٹ سے انحراف نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقے میں اصلاحات لانے کے لیے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرارداد کا مقصد حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کروانا ہے کہ قبائلی علاقوں میں تجویز کردہ اصلاحات پر جلد عمل درآمد کیا جائے۔

قبائلی علاقوں میں اصلاحات تجویز کرنے والی کمیٹی کے ترجمان اور سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے نائب صدر اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ بہتر ہوتا کہ پاکستان پیپلز پارٹی قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں قرارداد پیش کرنے سے پہلے اصلاحاتی کمیٹی کو بھی اعتماد میں لیتی۔

اُنھوں نے کہا کہ کمیٹی کے ارکان نے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اور رہنماوں سے ملاقات کی تھی تاہم وزیر اعظم نواز شریف اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ساتھ ملاقات طے ہونا باقی تھی۔

اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ بہتر ہوتا کہ اصلاحاتی کمیٹی نے قبائلی علاقوں کے لیے جو گیارہ نکات منظور کیے تھے پاکستان پیپلز پارٹی انھیں بھی اس قرارداد کا حصہ بناتی۔

اسی بارے میں