’پاکستانی مہاجرین کو افغانستان ہجرت پر آمادہ کرنا مداخلت ہے‘

Image caption گورنر نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں امن کا قیام موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر سردار مہتاب احمد خان نے کہا ہے کہ افغان حکومت کی جانب سے شمالی وزیرستان کے قبائل کو اپنے ہاں ہجرت پر آمادہ کرنے کے لیے مالی وسائل سمیت مختلف سہولیات کی فراہمی کی پرکشش ترغیبات دینا ہمارے معاملات میں غیر ضروری مداخلت ہے۔

گورنر کی طرف جمعرات کو صحافیوں کے ایک گروپ سے غیر رسمی بات چیت کے بعد جاری کردہ بیان میں انھوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان ایجنسی کے پاکستانی قبائل کو اپنے ہاں ہجرت کی ترغیب دینے کی بجائے افغان حکومت اپنے وسائل اور صلاحیتیں کئی دہائیوں سے وطن واپسی کے منتظر لاکھوں افغان مہاجرین کی واپسی اور بحالی پرصرف کرنا چاہییں تاکہ لاکھوں افغانوں کو مہاجرت اور پاکستان کی معیشت اور انفراسٹرکچر کو اضافی بوجھ سے نجات مل سکے۔

افغان حکومت کی جانب سے شمالی وزیرستان کے قبائل کو افغانستان نقل مکانی کے لیے مالی وسائل سمیت مختلف پرکشش ترغیبات دینے اور مہاجر کیمپوں کے قیام سے متعلق سوال کے جواب میں گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ یہ امر باعث مسرت ہے کہ افغانستان اب اس امر کی صلاحیت اور وسائل رکھتا ہے کہ وہ بحرانوں سے متاثرہ دوسرے ممالک کے لوگوں کو پناہ اور وسائل و سہولیات دینے کے لیے انھیں اپنے ہاں ہجرت کے لیے مدعو کرے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ بہتر یہ ہوگا کہ افغان انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنے وسائل اور توانائیاں دوسروں کے معاملات میں غیر ضروری طور پر ٹانگ اڑانے پر صرف کرنے کی بجائے ان لاکھوں افغانوں کی باعزت وطن واپسی اور بحالی پر صرف کرے جو گذشتہ کئی دہائیوں سے دنیا کے مختلف ممالک میں مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

سردار مہتاب احمدخان نے مزید بتایا کہ جہاں تک شمالی وزیرستان کے پناہ گزینوں کا تعلق ہے، ابتدائی مرحلہ میں افغانستان جانے والے خاندانوں کی بڑی تعداد کرم ایجنسی کے راستے پاکستان واپس آ چکی ہے جنھیں رجسٹریشن سمیت تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

آپریشن ضرب عضب کے دوران شہری نقصانات سے متعلق سوال کے جواب میں گورنر نے کہا کہ ایسے کسی بھی نقصان سے بچنے کے لیے وہاں کی عام آبادی کو نقل مکانی کا موقع فراہم کیاگیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں امن کا قیام موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے بعد مختلف ایجنسیوں سے نقل مکانی کرنے والے قبائلی بہن بھائیوں کی اپنے گھروں کو واپسی، وہاں حقیقی تعمیر و ترقی کے آغاز اور ایک موثر انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کا راستہ ہموار ہو سکے گا۔

اسی بارے میں