ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے نصف عام شہری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ منصوبہ گذشتہ برس ستمبر میں شروع کیا گیا تھا اور اس کا مقصد ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے تمام افراد کی معلومات اکٹھی کرنا ہے

غیر سرکاری برطانوی ادارے بیورو آف انویسٹیگیٹو جرنلزم کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے مجموعی افراد میں سے تقریباً نصف تعداد عام شہریوں کی ہے۔

’نیمنگ دی ڈیڈ‘ یا ’مرنے والوں کی شناخت‘ نامی اپنے ایک منصوبے کے تحت اس ادارے نے اب تک ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے سات سو افراد کے نام اکٹھے کیے ہیں جن میں سے تقریباً آدھی تعداد یعنی 323 کی شناخت بطور عام شہری ہوئی ہے جن میں 99 بچے بھی شامل ہیں۔

بیورو نے ہلاک ہونے والوں کی شناخت کا منصوبہ گذشتہ برس شروع کیا تھا لیکن اس کا کہنا ہے کہ وہ اب تک مرنے والوں کی مجموعی تعداد 2342 افراد میں سے انتہائی کم یعنی صرف تین میں سے ایک شخص کی شناخت میں کامیاب ہو سکا ہے۔

امریکی حکام کہتے ہیں کہ ڈرون حملوں میں صرف شدت پسند ہی نشانہ بنائے جاتے ہیں۔

دوسری جانب حکومت پاکستان نے آج تک ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی درست تعداد یا ان میں سے عام شہریوں کی تعداد جیسی درست معلومات عوام کے سامنے نہیں رکھی ہیں۔

پارلیمان میں ایک سوال کے جواب میں وزارت دفاع کی جانب سے انتہائی کم تعداد میں عام شہریوں کی ہلاکت کے معاملے پر شدید تنقید کے بعد یہ اعداد و شمار واپس لے لیے تھے اور کہا کہ ان علاقوں تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے درست معلومات نہیں مل سکتیں۔

بیورو نے شناخت کے دوران 95 افراد کو ان کی حیثیت کا تعین نہ ہوسکنے کی وجہ سے ’نامعلوم‘ کے درجے میں رکھا ہے۔ ادارہ ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے نام اور ان کی دیگر معلومات اکٹھی کرتا ہے تاہم وہ بھی اعتراف کرتا ہے کہ اس علاقے میں رسائی نہ ہونے کی وجہ سے تفصیلات اکٹھی کرنے میں اسے دشواری کا سامنا ہے۔

گذشتہ برس ستمبر میں ’نیمنگ دی ڈیڈ‘ منصوبے کے آغاز کے بعد سے اب تک 370 ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے 568 افراد کے نام حاصل کیے جا سکے ہیں۔

یہ حملے گذشتہ ایک دہائی کے دوران ہوئے۔ یہ نام اس نے عینی شاہدین، حکومتی دستاویزات اور بیورو کے تحقیقات کاروں کے ذریعے حاصل کیے ہیں۔

اس سال دس جولائی کو ایک حملے میں ہلاک ہونے والے تین افراد کی شناخت خود القاعدہ کے ایک سینیئر رہنما اور اسامہ بن لادن کے خاندان کے رکن صنافی النصر نے ٹوئٹر پر کی۔

انھوں نے ان تین کے نام فیض الخالدی، تاج المکی اور ابو عبدالرحمان الکویتی کے طور پر کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان میں رائے عامہ کا بڑا حصہ امریکہ ڈرون حملوں کے خلاف ہے

ہلاک ہونے والے بچوں سے متعلق بیورو کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق مجموری طور پر ہلاک ہونے والے مجموعی طور پر 168 بچوں میں سے وہ 99 کی شناخت نام سے کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ ان میں سے اکثریت یعنی 67 باجوڑ میں ڈمہ ڈولہ کے مقام پر 2006 میں ایک مدرسے پر حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

عورتوں میں محض دو کی شناخت ہو سکی ہے۔ ان میں سے ایک 60 سال سے زائد عمر کی دادی بی بی مامنہ تھیں۔ وہ اپنے مکان کے قریب کھیتوں میں کام کرتے ہوئے ہلاک ہوئیں۔

دوسری عورت سپین سے تعلق رکھنے والی ریچل برگس گارشیا القاعدہ کے رکن العزیزی کی اہلیہ تھیں۔ بیورو کے مطابق اب تک کم از کم 55 عورتیں ہلاک ہوئی ہیں۔

حکومت پاکستان ان حملوں میں شریک ہونے سے آج تک انکار کرتی رہی ہے تاہم ہلاکتوں کی مذمت باقاعدگی سے جاری رہی ہے۔

اسی بارے میں