راولپنڈی میں میٹرو منصوبے پر حکمِ امتناعی جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میٹرو بس منصوبے کا افتتاح اس سال مارچ میں ہوا تھا

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے راولپنڈی میں میٹرو بس کے منصوبے کے نقشے میں رد و بدل کرنے پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے پنجاب کی حکومت سے ایک ہفتے میں جواب طلب کر لیا ہے۔

جسٹس شاہ خاور کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک رکنی بینچ نے منگل کے روز راولپنڈی کے رہائشی شیخ افتخار عادل اور ارسال خان کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواستوں کی سماعت کی۔

ان درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیشنل انجنیئرنگ سروس پاکستان نے اس منصوبے کے لیے جس نقشے کی منظوری دی تھی اس کو شہر میں حکمران جماعت کے عہدیداروں نے بعض مصلحتوں کے تحت تبدیل کر دیا ہے۔

درخواست گزار شیخ افتخار عادل کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ راولپنڈی کے ایک مقامی اخبار اور ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک ہیں۔

درخواست گُزاروں کے وکیل چوہدری عمر حیات نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اس نقشے کے تحت سڑک کے راستے میں حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے افراد کی جائیدادیں آتی تھی جن کو بچانے کے لیے اس منصوبے کا نقشہ تبدیل کیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ راولپنڈی میں صادق آباد سٹاپ کے قریب نقشے کو تبدیل کر دیا گیا اور اس کا رخ اس طرف موڑ دیا گیا جہاں پر اُن کے موکل شیخ افتخار عادل کی جائیداد ہے۔

عدالت نے درخواست گُزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا اُنھوں نے اس معاملے کو دیگر فورم پر بھی اُٹھایا ہے، جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے مقامی انتظامیہ اور میٹرو بس منصوبے کی انتظامیہ کو اس بارے میں درخواستیں دی تھیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

عدالت نےصادق آباد سٹاپ کے قریب میٹرو بس منصوبے پر کام کو روک دیا ہے اور اس ضمن میں فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن سے 12 اگست کو جواب طلب کرلیا ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل چوہدری عمر حیات نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سابق رکن قومی اسمبلی اور میٹرو بس منصوبے کے انچارج حنیف عباسی نے صادق آباد سٹاپ کے قریب جائیداد خریدی ہے جو کہ نیس پاک کے منظور شدہ نقشے میں آتی ہے جہاں سے میٹرو بس کو گُزرنا تھا۔ تاہم اُن کی اس جائیداد کو بچانے کے لیے نقشے کو تبدیل کیا گیا ہے۔

بی بی سی نے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما محمد حنیف عباسی کا موقف جاننے کے لیے اُن سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن اُن سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

یاد رہے کہ پنجاب اور وفاقی حکومت نے اس سال مارچ میں راولپنڈی سے اسلام آباد میٹرو منصوبے کا افتتاح کیا تھا اور اس کی تکمیل کے لیے ایک سال کی مدت رکھی گئی ہے۔

اسی بارے میں