پشاور: بازار میں فائرنگ، ایک سکھ دکاندار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ press association
Image caption پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے یکے بعد دیگرے تین دکانوں پر فائرنگ کی

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں نامعلوم افراد نے ایک مقامی بازار میں سکھ افراد پر فائرنگ کی جس میں پولیس کے مطابق ایک سکھ ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔

یہ واقعہ ہشت نگری کے علاقے میں شباب مارکیٹ میں پیش آیا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ اس مارکیٹ میں زیادہ تر دکانیں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہیں۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے یکے بعد دیگرے تین دکانوں پر فائرنگ کی اور پھر جائے وقوع سے فرار ہوگئے۔

پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ جگموہن سنگھ اس حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ دو بھائی فرم سنگھ اور منمیت سنگھ اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ جگموہن سنگھ پر اس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ اپنی دکان کے باہر کھڑے تھے۔ فائرنگ کی آوآم سن کر دوسری دکان میں موجود ان کے ساتھی باہر آئے اور ان پر بھی فائرنگ کی گئی۔

اس واقعے کے بعد سکھ برادری کے افراد نے جی ٹی روڈ پر احتجاج کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سکھ برادری نے مختلف موقعوں پر تشدد کے واقعات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور انھوں نے حکومت سے تحفظ کا مطالبہ کیا تھا

سکھ برادری پر خیبر پختونخوا میں یہ پہلا حملہ نہیں ہے۔ اس سال جنوری میں شبقدر کے مقام پر اور مارچ کے مہینے میں چارسدہ میں تنگی کے مقام پر تین سکھ شہریوں کو ہدف بنا کر ہلاک کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے دو سکھ افراد کو ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب درابن روڈ سے اغوا کر لیا گیا تھا لیکن کچھ عرصے کے بعد وہ بازیاب ہو کر واپس گھروں کو پہنچے۔

پشاور میں مختلف مقامات پر سکھ برادری کی دکانیں ہیں اور اکثر ان کی دکانیں مارکیٹوں میں ہیں جہاں یہ مشترکہ طور پر کاروبار کرتے ہیں۔

قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز کی نتیجے میں بڑی تعداد میں سکھ برداری کے افراد نقل مکانی کر کے پشاور پہنچے تھے ان میں اورکزئی اور خیبر ایجنسی کے سکھوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

یاد رہے چند ماہ پہلے سکھ برادری کے چند افراد نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج بھی کیا تھا اور پارلیمنٹ کی عمارت میں گھس گئے تھے۔ یہ احتجاج سکھوں کی کتاب کی بے حرمتی کے خلاف کیا گیا تھا۔

سکھ برادی نے مختلف موقوں پر تشدد کے واقعات کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور انھوں نے حکومت سے تحفظ کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی بارے میں