عافیہ کی رہائی میں تعطل، حکومت کا دیگر آپشنز پر غور

Image caption ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو افغان پولیس نے مشرقی علاقے غزنی سے 17 جولائی 2008 کو گرفتار کیا تھا

پاکستان اور امریکہ کی درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی کوششوں میں تعطل پیدا ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی واپسی کے امکانات فی الحال معدوم ہوگئے ہیں۔

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ چونکہ اب امریکہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ قیدیوں کے دوطرفہ تبادلے کے معاہدے میں دلچسپی نہیں رکھتا، لہٰذا وہ دیگر آپشنز پر اب غور کر رہا ہے۔ ان میں یورپ اور امریکہ کے درمیان سزا یافتہ قیدیوں کہ تبادلے کے معاہدے یا آرگنائزیشن آف امیریکن سٹیٹس کے قیدیوں کی سزا دیگر ممالک میں کاٹنے جیسے معاہدوں میں شمولیت شامل ہے۔

وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم خان نے تاہم ہفتہ وار بریفنگ کے دوران امریکہ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر تعطل سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

ادھر اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ترجمان سے جب اس تعطل کی وجوہات جاننے کی کوشش کی تو انھوں نے بھی دونوں ممالک کے درمیان اس حوالے سے کسی بات چیت سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے رابطے کی تجویز دی۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ان کے بیٹے کے ہمراہ افغان پولیس نے مشرقی علاقے غزنی سے 17 جولائی 2008 کو گرفتار کیا تھا۔

عافیہ صدیقی پر الزام ہے کہ 18 جولائی کو امریکی تفتیش کے دوران انھوں نے امریکی فوجی سے ایم فور بندوق چھین کر دو گولیاں چلائیں۔ جواب میں انھیں پیٹ میں گولی ماری گئی۔ بعد میں انھیں نیویارک منتقل کر دیا گیا۔ انھیں ایک امریکی عدالت میں ستمبر 2010 میں فوجی پر حملے کے الزام میں 86 برس کی سزا سنائی۔

گذشتہ برس کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد نواز حکومت نے ڈاکٹر عافیہ کی واپسی کی کوششیں دوبارہ شروع کیں۔ اس حوالے سے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ذاتی دلچسپی لینا شروع کی لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ معاملہ رک گیا ہے۔

مسلم لیگ ن کی حکومت کی اس معاملے میں خصوصی دلچسپی کے بارے میں سینیئر صحافی مقبول ملک کہتے ہیں کہ حکمران جماعت دائیں بازو کی جماعت ہے اور اس کا ووٹ بینک بھی مذہبی سوچ رکھنے والوں پر مشتمل ہے: ’اگر ڈاکٹر عافیہ کی واپسی ممکن ہو جائے تو سیاسی طور پر اس کا جماعت پر مثبت اثر ہوگا۔ جس کی وہ توقع کر رہی ہے۔‘

تقریباً ایک سال قبل 28 اگست کو وفاقی کابینہ نے یورپی کنونشن میں شمولیت کی منظوری دی اور اس حوالے سے یورپی حکام سے رابطہ بھی کیا۔ لیکن اس سال اپریل میں کونسل آف یورپ نے پاکستانی درخواست مسترد کر دی تھی۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ کونسل نے پاکستانی درخواست منظور کیوں نہیں کی اور ان کے تحفظات کیسے دور کیے جاسکتے ہیں۔

ڈاکٹر عافیہ اس وقت ٹیکسس کی ایک جیل میں سزا کاٹ رہی ہیں۔ پاکستانی سفارت کاروں کے علاوہ سینیٹر مشاہد حسین سید بھی ان سے مل چکے ہیں۔

تاہم جن لوگوں نے ان سے ملاقاتیں کی ہیں وہ بتاتے ہیں کہ وہ امریکہ میں اکثر قدرتی آفات کا ذمہ دار اپنی بددعاؤں کو قرار دیتی ہیں۔

اسی بارے میں