لیبیا میں محصور پاکستانی واپسی کے منتظر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دیگر غیر ملکی باشندوں کے علاوہ 3500 پاکستانی لیبیا میں محصور ہیں۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نے لیبیا میں سکیورٹی کی خراب صورتحال کے پیش نظر وہاں محصور 3500 پاکستانیوں کی فوری اور بحفاظت وطن واپسی کی ہدایات جاری کی ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جمعرات کو میاں نواز شریف کی سربراہی میں منعقد ہونے والے اجلاس میں لیبیا میں محصور پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم نے وزارت خارجہ اور متعلقہ اداروں کو خصوصی پروازوں کے ذریعے لیبیا میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی وطن واپسی کا انتظام کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق اب تک 2500 پاکستانی وطن واپس لوٹ چکے ہیں جبکہ تقریباً 3500 اب بھی پاکستان واپسی کے منتظر ہیں۔

مختلف ممالک نے اپنے شہریوں کو لیبیا سے نکالنا شروع کر دیا ہے جبکہ بعض ممالک نے اپنے شہریوں کے وہاں جانے سے گریز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

برطانیہ نے اپنے شہریوں کو رائل نیوی کے بحری جہاز سے مالٹا منتقل کیا ہے جبکہ امریکہ نے گذشتہ ہفتے اپنے سفارتی عملے کو’حقیقی خطرات‘ کا حوالہ دیتے ہوئے وہاں سے نکال لیا تھا۔اقوام متحدہ بھی لیبیا سے اپنا سٹاف واپس بلوا چکا ہے۔

یاد رہے کہ لیبیا کے سابق صدر معمر قدافی کو سنہ 2011 میں حکومت سے ہٹانے کے بعد سے ملک بھر میں عدم استحکام اور حریف گروپوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش جاری ہے۔

پارلیمنٹ اور وزارت دفاع کی جانب سے قائم کی گئی حریف ملیشیاوں کے درمیان حالیہ لڑائی اب طرابلس کے شمالی علاقوں تک پھیل گئی ہے۔ تصادم کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں