حکومت اور حزبِ اختلاف، سب کی نظریں فوج پر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان نے ابھی تک بھی اپنا 14 اگست اور اس کے بعد کا لائحہ عمل مکمل طور پر واضح نہیں کیا

جوں جوں 14 اگست قریب آ رہا ہے، سیاست دانوں پر ایک ہیجانی کیفیت طاری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

ایک طرف تحریک انصاف ہے جو آزادی مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر ملک کے مختلف شہروں میں رجسٹریشن کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں جہاں پارٹی کارکنوں کے علاوہ مارچ میں شرکت کے خواہش مند اپنی رجسٹریشن کروا رہے ہیں۔

دوسری طرف حکومتی حلقے ہیں جہاں مارچ کو روکنے، ملتوی اور ناکام کروانے کے لیے کئی طرح کی حکمت عملیاں اور منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر جب 17 جون کو منہاج القرآن کے باہر پولیس کے تصادم کے بعد حکومت کے لیے طاقت کے استعمال کی آپشن ختم ہو چکی ہے تو احتجاجی مارچ سے نمٹنا بےحد مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

وزیراعظم اپنے مشیروں اور اپوزیشن کی کچھ شخصیات کے ذریعے عمران خان سے رابطوں کی کوشیش بھی کر رہے ہیں تاکہ ڈی چوک میں تحریک انصاف کے دھرنے کو روکا جاسکے۔

تاہم سیاسی ماہرین کے مطابق اب یہ معاملہ اس سطح تک پہنچ چکا ہے کہ یہاں سے واپسی عمران خان کی اپنی سیاسی ساکھ کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔

عمران خان نے حال ہی میں اپنی پارٹی کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کسی بھی ڈیل کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کوئی بزنس مین نہیں کہ ڈیلز کریں۔

تاہم کچھ تجزیہ نگار سمجھتے ہیں کہ اس مرحلے پر آزادی مارچ کو صرف فوج ہی رکوا سکتی ہے۔ اگر فوج عمران خان کو یہ یقین دہانی کروائے کہ ان کے مطالبات کو پورا کر دیا جائے گا شاید تحریک انصاف اپنا یہ شو ملتوی کر دے۔

عمران خان نے ابھی تک بھی اپنا 14 اگست اور اس کے بعد کا لائحہ عمل مکمل طور پر واضح نہیں کیا۔ تاہم وہ مارچ کی تیاری کے لیے ہونے والے جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں گذشتہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات انتخابی اصلاحات وسط مدتی انتخابات اور وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ڈی چوک میں دھرنا دینے سے یہ تمام مطالبات منوائے جاسکتے ہیں؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار عارف نظامی کہتے ہیں: ’طاہرالقادری اور عمران خان کا جو کردار اس وقت ہے وہ یہی چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح فوج اس معاملے میں ملوث ہو جائے۔ براہ راست نہیں بلکہ وہ پس پردہ طنابیں کھینچتے رہیں، اور فوج میں بھی کچھ ایسے عناصر ہیں، کئی کور کمانڈر اور ڈی جی آئی ایس آئی، جو نواز شریف کو قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے۔‘

ن لیگ نے پہلے تو عمران خان کے مطالبات اور احتجاج کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیا ہی نہیں۔ ن لیگ کے وزرا کے اشتعال انگیز بیانات سے کشیدگی مزید بڑھی اور پھر عوام کی توجہ مارچ سے ہٹانے کے لیے یوم آزادی کی تقریبات کا سلسلہ یکم اگست سے شروع کر دیا گیا۔ یہ حکمت عملی بھی زیادہ کامیاب نہیں رہی اور اب حکومت واضح طور پر دباؤ کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے آزادی مارچ سے نمٹنے کے لیے کثیر جہتی حکمت عملی بنائی گئی ہے۔ ایک طرف وزیراعظم اپوزیشن اور حکومتی شخصیات سے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں تو دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاریوں موٹرسائیکلوں کی پکڑدھکڑ، لاہور اسلام آباد کے راستوں پر پٹرول پمپوں کی بندش سمیت ہر طرح کے اقدامات زیرغور ہیں۔

پنجاب کے وزیرقانون رانا مشہود کہتے ہیں: ’ہم نے تحریک انصاف سے کہا ہے کہ وہ قانون کے مطابق تحریری طور پر اس احتجاج کی اجازت لیں اور لکھ کر دیں کہ اس میں کوئی توڑپھوڑ تو نہیں ہوگی۔اگر یہ پرامن رہ کراحتجاج کریں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر اگرریاستی معاملات میں کوئی مداخلت ہوئی تو ہم اسے روکیں گے۔ یہ لوگ صرف ہیرو بننا اور شہید ہونا چاہ رہے ہیں۔‘

لیکن تجزیہ نگار عارف نظامی کی رائے ہے کہ ضروری نہیں کہ آزادی مارچ کے نتائج عمران خان کے حق میں ہی ہوں۔

’غالبا وہ لوگ جو یہ سمجھ رہے ہیں کہ حکومت جارہی ہے وہ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی لمبا سا نگران دور آئے جس میں ٹیکنوکریٹ انتخابی نظام کو ٹھیک کریں اور پھر انتخاب ہو لیکن اس نظام کی اپنی پیچیدگی ہے۔‘

عارف نظامی کے بقول: ’عمران خان 14 اگست کو جن قوتوں کو کھولنے جارہے ہیں وہ ضروری نہیں ان کے قابو میں رہیں۔ 1977 میں پی این اے کی تحریک میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ تحریک تو بھٹو صاحب کو ہٹانے کے لیے تھی لیکن پھر ضیا الحق آگئے جو 11 سال حکمران رہے۔‘

اسی بارے میں