’دیر ہوگئی ہے، وزیر اعظم سے ملاقات 14 اگست کے بعد‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میرے پاس 14 سے پہلے ملاقاتوں کا وقت نہیں ہے: عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ اب دیر ہو چکی ہے، 14 اگست کے مارچ کو نہیں روکا جاسکتا اور نہ ہی اس سے قبل وہ وزیراعظم کو ملاقات کے لیے وقت دے سکتے ہیں۔

بنی گالا میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ 14 مارچ کو ان کی جانب سے پیش کیے جانے والا کا کوئی بھی مطالبہ غیر آئینی نہیں ہوگا اور مطالبات تسلیم ہونے تک وہ خود دھرنے میں بیٹھیں گے۔

’جب تک مطالبات نہیں مانے جائیں گے، میں خود وہاں بیٹھوں گا چاہے میری زندگی کو جتنا بڑا خطرہ ہو۔‘

اس سوال پر کہ کیا وہ وزیراعظم سے ملاقات ہو سکتی ہے، عمران خان نے کہا کہ ’میرے پاس 14 سے پہلے ملاقاتوں کا وقت نہیں ہے، 14 کے بعد ملاقات ہو سکتی ہے، اس سے پہلے نہیں ہوسکتی۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انتخابات میں دھاندلی ثابت نہ ہوئی تو وہ معافی مانگیں گے تاہم اگر دھاندلی ثابت ہو گئی تو صرف ایک راستہ ہے اور وہ دوبارہ انتخابات کا راستہ ہے۔

عمران خان نے اس تاثر کو رد کیا کہ اگر کسی بھی سیاسی جماعت نے ان کا ساتھ نہ دیا تو وہ تنہائی کا شکار ہو جائیں گے۔

’جس جماعت کے ساتھ عوام ہوتی ہے اسے کسی بیساکھی کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘

تحریک انصاف کے سربراہ نے کہا کہ پرامن احتجاج جمہوریت کا حصہ ہے لیکن جو کچھ پنجاب پولیس کر رہی ہے اس سے فوج آسکتی ہے۔ تاہم انھوں نے نوجوانوں کی موٹرسائیکلیں واپس کرنے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر خوشی کا اظہار کیا۔

عمران خان نے عدلیہ کی بحالی کے لیے ملک میں ہونے والے لانگ مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھی ججوں کی بحالی کی صورت میں ملک میں جمہوریت کو سڑکوں پر آگے بڑھایا گیا۔

’سڑکوں پر انتخابی طریقہ کار کو درست کرنا ہے۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ جاوید ہاشمی کے دو عزیزوں کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ شاہ محمود قریشی کے گھر بھی پولیس نے چھاپہ مارا ہے۔

اپنی پریس کانفرنس میں ایک بار پھر عمران خان نے شریف فیملی کے پاس موجود مالی اثاثوں پر سوال اٹھایا کہ وہ کدھر سے آئے ہیں۔ عمران خان نے یہ الزام بھی لگایا کہ نواز شریف کا ایک بیٹا ساڑھے آٹھ ارب روپے کے فلیٹ میں رہتا ہے جبکہ حسن نواز کے پاس 40 ارب روپے کی جائیداد ہے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ نے 14 اگست کو ’آزادی مارچ‘ کی کال دی ہے۔

اگرچہ اس سے قبل عمران خان کی جانب سے ڈی چوک میں آزادی مارچ کے پڑاؤ کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اب تک وفاقی حکومت نے ان کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ 11 اگست کو اپنی اگلی پریس کانفرنس میں یہ بتائیں گے کہ دھاندلی کیسے ہوئی اور کون کون اس میں ملوث تھا۔

اسی بارے میں