لاہور میں جھڑپیں، ’طاہرالقادری پر بغاوت کا مقدمہ کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس نے پہلے سے ہی مہناج القرآن سیکریٹیریٹ جانے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر رکھی تھی

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں عوامی تحریک کے کارکنان نے منہاج القرآن کے آس پاس لگائی گئی رکاوٹوں کو ہٹانا شروع کردیا ہے جس کے باعث پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

پنجاب کے وزیر قانون رانا مشہود نے ایک پریس کانفرس میں عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر قانون کے مطابق عوامی تحریک کے کارکنوں نے پولیس پر تشدد کیا اور حکومت ان پر ہاتھ اٹھانے والوں کو نہیں چھوڑے گی۔

’حکومت کے پاس اس واقعے کے تمام فوٹیجز موجود ہیں جن کی مدد سے عوامی تحریک کے کارکنوں کو گرفتار کیا جائے گا۔‘

وزیرِ قانون کے مطابق عوامی تحریک کے کارکنوں نے خوشاب میں ایک تھانے کو آگ لگا دی ہے۔

عوامی تحریک کے صدر رحیق عباسی کے مطابق پولیس نے منہاج القرآن کی جانب جانے والی تین بسوں میں سوار مسافروں کو نیچے اتار کر محصور کیا اس کے بعد تصادم کا آغاز ہوا۔

پولیس نے اس سے قبل ماڈل ٹاؤن لاہور میں مہناج القرآن سیکریٹیریٹ کی جانب جانے والے راستوں کو کنٹینرز رکھ کر بلاک کر دیا تھا۔ تاہم عوامی تحریک کے کارکنان نے کنٹرینز ہٹانے کی کوشش کی جس کے بعد علاقے میں تصادم کا آغاز ہوا۔

پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کر رہی ہے۔

لاہور سے ہماری نام نگار مناّ رانا نے بتایا کہ اس سے قبل جمعے کی دوپہر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد محمود خان نے ماڈل ٹاون کے علاقے میں کنٹینرز لگا کر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران کہا کہ ’یوم شہداء‘ کے موقع پر شہر میں امن قائم رکھنے سے متعلق منہاج القرآن کے سربراہ طاہر القادری بیان حلفی دیں۔

شہر میں رکھے گیے کنٹینرز کے خلاف دائر پٹیشن کی سماعت کےدوران جسٹس خالد محمود خان نے کہا کہ کسی شہری کی نقل و حرکت پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی اس موقع پر آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے کہا کہ طاہر القادری کی جان کو خطرہ ہے اس لئے صرف ماڈل ٹاون میں ان کی رہائشگاہ کے علاقے کو سیکیورٹی کےمد نظر سیل کیا گیا ہے۔

جسٹس خالد محمود خان نے قرار دیا کہ ایک شخص کی خاطر پورے شہر کو بند نہیں کیا جاسکتا ان کا کہنا تھا کہ منہاج القرآن کے سربراہ بیان حلفی دیں کہ ’یوم شہداء‘ کے دوران کسی طرح کا نقصان نہیں ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ اگر کل صبح گیارہ بجے تک بیان حلفی جمع کروا دیا گیا تو فوری طور پر رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دے دیا جائے گا۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ماڈل ٹاون سے ارکان اسمبلی کو کہیں کہ وہاں کے رہائشیوں کی تفصیلات فراہم کریں اور اس کو سامنے رکھتے ہوئے سیکیورٹی پلان ترتیت دیا جائے تاکہ رہائشیوں کی آمد و رفت میں دقت نہ ہو ۔ عدالت عالیہ نے کیس کی مزید سماعت ہفتے کی صبح تک ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں