10 سیٹوں کی گنتی کی شرط: ’حکومت سے اب کوئی بات نہیں ہوگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت اب مذاکرات کی پیشکش پاکستان تحریکِ انصاف کے دباؤ میں آ کر رہی ہے

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات کو زیرِ غور لانے کی پیشکش کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب حکومت سے کوئی بات نہیں کی جائے اور اب وہ اپنے مطالبات اسلام آباد میں ہی پیش کریں گے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے سنیچر کی صبح اسلام آباد میں قومی سلامتی کانفرنس کے اجلاس میں اپنے خطاب میں کہا تھا کہ اگر پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان انھیں بلائیں گے تو انھیں مذاکرات کے لیے عمران خان کے پاس جانے میں کوئی عار نہیں ہے۔

’دیر ہوگئی ہے، وزیر اعظم سے ملاقات 14 اگست کے بعد‘

میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں وہ مثبت رائے رکھتے ہیں اور عمران خان کو بات چیت کے ذریعے ہی معاملات حل کرنے چاہیے۔

ادھر پاکستان تحریکِ انصاف کی مرکزی ترجمان شیریں مزاری نے وزیراعظم کے اس دعوے کو رد کیا ہے کہ جماعتِ اسلامی کے سربراہ سراج الحق جب عمران خان کا مؤقف لے کر وزیراعظم کے پاس آئے تو ان کے مطابق عمران خان نے 10 سیٹوں پر دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی شرط پر لانگ مارچ ختم کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی تھی۔

عمران خان نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے کارکنان کے ساتھ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان جیسا سلوک کیا گیا تو ان کی جماعت حکام کا مقابلہ کرے گی۔

عمران خان نے کہا اس کشیدگی کے نتیجے میں ملک میں جو بھی فساد ہوگا، اس کے ذمہ دار ملک کے حکمران ہوں گے۔

اس سے قبل پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اپنے کارکنوں کے مبینہ طور پنجاب حکومت کے ہاتھوں ہراساں کیے جانے اور گرفتاروں کے نتیجے میں کارکنان کو لاہور پہنچنے سے روک دیا ہے۔

پاکستان عوامی تحریک نے 10 اگست کو لاہور میں ’یومِ شہدا‘ کا انعقاد کرنا تھا۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے 14 اگست کو لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ اور اس کے بعد دارالحکومت کے ڈی چوک میں دھرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وزیرِاعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے اور ملک میں دوبارہ انتخابات کروانے کا مطالبہ بھی کر رکھا ہے۔

ادھر صوبہ خیبر پختوانخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے گذشتہ شب لاہور میں پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد احتجاجاً اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔

سکیورٹی کانفرنس

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حکومت ہچکچاہٹ کے بغیر بات کرنے کو تیار ہے: وزیراعظم نواز شریف

ادھر اسلام آباد میں وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت منعقد ہونے والے قومی سلامتی کانفرنس میں شرکت کرنے والی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے دہشت گری کے خاتمے تک آپریشن کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

قومی سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں بّری فوج کے سربراہ، ڈی جی آئی ایس آئی، دو وزرائے اعلیٰ اور سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے سیاسی رہنماؤں کو شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب میں اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل محمد ظہیر الاسلام ، ڈی جی ملٹری آپریشنز اور ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل عاصم سلیم باجوہ بھی اجلاس میں شریک تھے۔

شرکاء کو آپریشن ضرب عضب میں اب تک کلیئر کیے جانے والے علاقوں کےبارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔

کانفرنس میں شریک ملک کی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو ان علاقوں کے بارے میں بتایا گیا جہاں سے افواج ِ پاکستان نے دہشت گردوں کو نکالا ہے۔

ڈی جی ملٹری آپریشنز نے بتایا کہ فوج نے دہشت گردوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ کردیا ہے۔

اس موقعے پرشرکا کو یہ بھی بتایا گیا کے فوج نے دہشت گردوں کو پہنچنے مالی آمدن کو روک دیا ہے اور متاثرہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے آئی ڈی پیز کو بھی مناسب مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔

اسی بارے میں