’عوامی تحریک کے کارکنوں کے ہاتھوں پولیس اہلکار ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طاہر القادری نے اپنے کارکنان کو اپنے اپنے شہروں میں ہی ’یوم شہدا‘ منانے کے احکامات جاری کیے ہیں

پنجاب پولیس کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں نے ایلیٹ پولیس کے ایک سپاہی کو ہلاک اور سو سے زائد پولیس اہکاروں کو زخمی کر دیا ہے جبکہ 22 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا ہے۔

انسپیکٹر جنرل پولیس پنجاب کے ترجمان کی طرف سے سنیچر کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان عوامی تحریک کے کارکن گذشتہ 24 گھنٹوں سے پنجاب پولیس پر حملے کر رہے ہیں جس میں 34 سالہ سپاہی محمد فیاض ہلاک جبکہ 130 پولیس افسر اور حکام زخمی ہوئے ہیں۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ 22 پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا گیا جبکہ بہت سے اہلکار لاپتہ ہیں۔

پنجاب پولیس کے بیان کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں نے پولیس سٹیشنوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ہے اور سرکاری ریکارڈ کو بھی جلا دیا ہے۔

بیان میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے کارکن پولیس پر حملوں میں، کیل دار ڈنڈے، غلیل، پتھر، چاقو اور دیگر اسلحے کا استعمال کر رہے ہیں۔

آئی جی پی پنجاب کی ترجمان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شدید زخمیوں میں گجرانوالہ کے ضلعی پولیس افسر وقار نذیر، ڈی ایس پی اسد سندھو، رانا رفیق، ڈی ایس پی عابد غنی، انسپکٹر غضنفر، انسپکٹر خادم، صفدر، ایس آئی ارشاد حسین، ایس آئی ریاض حسین، ایس آئی احمد شبیر شامل ہیں۔

بیان کے مطابق لاہور میں 9، گجرانوالہ میں 55، اوکاڑہ میں ایک، بھکر میں 25، جھنگ میں 14 ، راولپنڈی میں 13، سرگودھا میں نو، اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

ادھر انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کی ترجمان نبیلا عضنفر نے بی بی سی کو بتایا کہ آئی جی کے حکم پر بند سڑکوں کو کھولا جا رہا ہے۔

اس سے پہلے لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان عوامی تحریک کی لاہور میں کنٹینرز کے ذریعے رکاوٹیں کھڑی کرنے کے خلاف درخواست مسترد کر دی تھی۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق عدالت نے رکاوٹیں کھڑی کرنے کے عمل کو بنیادی انسانی حقوق کے منافی نہیں قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو تحفظ فراہم کرے۔

عدالتی فیصلے کے بعد عوامی تحریک کے سربراہ طاہرالقادری نے لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنے کارکنان کو اپنے اپنے شہروں میں ہی ’یوم شہدا‘ منانے کے احکامات جاری کیے مگر بعد میں اسے واپس لے کر انہیں ہر حال میں لاہور پہنچے کا حکم جاری کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میرے کارکنوں نے کہیں پر اسلحہ نہیں اٹھایا سوائے کنٹینرز ہٹانے کے:طاہرالقادری

انھوں نے الزام لگایا ہے کہ ’یومِ شہدا‘ میں شرکت کے لیے لاہور آنے والے قافلوں میں شریک سات افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ’ان کے بے شمار کارکن گولیوں سے شدید زخمی ہوئے ہیں جنھیں علاج کی سہولت فراہم کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔‘

طاہرالقادری نے الزام عائد کیا کہ ’مختلف علاقوں سے لاہور آنے والے قافلوں پر شہباز شریف نے ڈائریکٹ گولی چلانے کا حکم دیا۔‘ انھوں نے دعویٰ ہے کہ ان کے تمام کارکن نہتے تھے جن کے پاس کوئی اسلحہ نہیں تھا۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ گھروں میں گھس کر لوگوں کو نکالا گیا اور ان کے 15 سے 20 ہزار تک کارکن گرفتار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے کارکنوں نے کہیں پر اسلحہ نہیں اٹھایا سوائے کنٹینرز ہٹانے کے۔‘

اسی بارے میں