سراج الحق کا فارمولا، ’حکومتی جواب مل گیا، عمران کا انتظار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سراج الحق خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت میں سینیئر ومیر کے طور پر کام کر چکے ہی

امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے موجودہ سیاسی صورتحال کے حل کے لیے ایک جامع پیکج فریقین کو پیش کیا گیا ہے جس پر بات چیت جاری ہے۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا ’میں نے عمران خان صاحب کو بھی سنا ہے اور پی ٹی آئی کہ موقف کو بھی سنا ہے اور پھر میں نے میاں نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو سنا ہے اور ان سے بات کی ہے۔ اس کے بعد جس طرح میں بہتر سمجھتا تھا ایک فارمولا بنا کر ہم نے ان کو دیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے وزیرِ اطلاعات پرویز رشید اور وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق میرے پاس خیبر پختونخوا ہاؤس آئے تھے۔ انھوں نے حکومت کا موقف اس فارمولے پر دے دیا ہے۔ اس میں سرکار کا موقف ہم نے سنا ہے کہ یہ جو میرا پیکج ہے اس میں یہ ممکن ہے اور یہ ممکن نہیں ہے۔ اس پر پی ٹی آئی والوں سے بات چیت جاری ہے۔‘

سراج الحق نے کہا کہ ’ہماری کوشش تو ہے کہ کہیں ایکسیڈنٹ نہ ہو جائے جس کے بعد پولیس آکر دونوں پارٹیوں کو چالان پکڑا دیتی ہے۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا مسئلہ میاں نواز شریف کے بقول 10 سیٹوں سے حل ہو سکتا تھا تو انہوں نے کہا ’یہ مسئلہ 4 سیٹوں کا ہے، 5 سیٹوں کا ہے یا دس سیٹوں کا ہے۔ میرا فارمولا پورا پیکج ہے اس مسئلے کے حل کے لیے۔ اور ملک کو موجودہ صورتحال سے نکالنے کے لیے۔‘

سراج الحق سے جب پوچھا گیا کہ وزیراعظم نے 10 سیٹوں کے حوالے سے آخر بات کیوں کی تو انھوں نے کہا ’وزیراعظم اپنی مرضی کے مالک ہیں جس طرح آدمی سمجھتا ہے اس طرح بات کرتا ہے۔ حکومت یہی چاہے گی کہ مسئلہ رفع دفع ہو جائے۔‘

مسائل کے حل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’کافی گنجائش موجود ہے مگر کچھ لوگوں کی جانب سے یہ کوشش ہے کہ کہیں بات نہ بن جائے اور یہ مسلسل آگ پر تیل چھڑکنے کی کوشش میں ہیں۔ تاہم حکومت کے رویے میں لچک ہونی چاہیے جو ہے بھی۔‘

عمران خان کے ساتھ براہِ راست رابطے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ’یقیناً عمران کے ساتھ ہم رابطے میں ہیں۔ ہم بھائی بھی دوست بھی ہیں اور ایک دوسرے پر اعتماد بھی ہے۔‘

اسی بارے میں