راولپنڈی میں تین مبینہ شدت پسند گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے احتجاج کی کال دینے کی وجہ سے سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے مبینہ شدت پسندوں نے ٹرین کے ذریعے لاہور جانے کا فیصلہ کیا

وفاقی دارالحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی کے فوجی علاقے میں حساس اداروں اور ریلوے پولیس کے حکام نے راولپنڈی سے لاہور جانے والی ٹرین کے ایک ڈبے میں چھاپا مار کر تین مبینہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے۔

حکام کے مطابق شدت پسندوں کے قبضے سے دو خودکش جیکٹیں، آتش گیر مادہ اور اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

حساس ادارے کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ شدت پسند یوم آزادی کے موقع پر خودکش حملوں کے علاوہ بم دھماکوں کی بھی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

اہلکار کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے احتجاج کی کال دینے کی وجہ سے سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے مبینہ شدت پسندوں نے ٹرین کے ذریعے لاہور جانے کا فیصلہ کیا۔

اہلکار کے مطابق معلومات ملنے کے بعد حساس اداروں اور ریلوے پولیس کے اہلکاروں نے اتوار کے روز چکلالہ ریلوے سٹیشن کے قریب گاڑی کو روک کر نشاندہ ڈبے کی تلاشی کے دوران تین شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق ملزمان نے یہ مواد کپٹروں کے ایک بیگ میں رکھا تھا اور راولپنڈی ریلوے سٹیشن پر سکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کی طرف سے اس سامان کو چیک نہ کرنے کی وجہ سے ملزمان یہ سامان ریل گاڑی کے اندر لیکر جانے میں کامیاب ہوگئے۔

اہلکار کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ افراد پاکستان کے یوم آزادی پر ہونے والی سرکاری تقریبات کو نشانہ بنانا چاہتے تھے اور اس ضمن میں انھوں نے لاہور میں ہونے والی تقریبات کی حوالے سے معلومات بھی اکھٹی کی لی تھی۔

اہلکار کے مطابق شدت پسندوں نے تفتیش کے دوران بتایا کہ ان کے اہداف میں لاہور میں عسکری قیادت کی طرف سے منعقد کی جانے والی تقریب بھی شامل ہے۔ گرفتار ہونے والے مبینہ شدت پسندوں نے اپنے چار مزید ساتھیوں کی راولپنڈی اور لاہور میں موجودگی کا ذکر کیا ہے جن کی گرفتاری کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو متحرک کردیا گیا ہے۔

اہلکار نے گرفتار ہونے والے مبینہ شدت پسندوں، اُن کے ساتھیوں اور سہولت کاروں سے متعلق معلومات فراہم نہیں کیں۔

تھانہ ایئرپورٹ پولیس کے اہلکار رشید خان کے مطابق پولیس کو ان افراد کی گرفتاری سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے تاہم ابھی تک اُنھیں تھانے منتقل نہیں کیا گیا۔

اُدھر اسلام آباد میں یوم آزادی کے موقع پر فوج کی پریڈ اور پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے لانگ مارچ کی کال پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے فوج کو اسلام آباد میں واقع ریڈ زون میں تعینات کر دیا گیا ہے۔

ریڈ زرون میں وزیر اعظم ہاؤس، ایوان صدر، پارلیمنمٹ ہاؤس، پاک سیکرٹریٹ، سپریم کورٹ، دفتر خارجہ اور ڈپلومیٹک انکلیو شامل ہیں۔

ان علاقوں میں ایک بڑی تعداد میں کنٹیرز بھی رکھ دیے گئے ہیں تاہم ابھی تک ان علاقوں کی سڑکوں کو بلاک نہیں کیا گیا۔ سرکاری ملازمین کو ڈیوٹی پر آنے کے لیے اپنے دفتر کا کارڈ ہمراہ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسلام آباد میں فوج طلب کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور کاسی کی سربراہی میں تین رکنی فُل بینچ بارہ اگست سے ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔

اسی بارے میں