چند سو ووٹ لینے والے انقلاب نہیں لا سکتے: نواز شریف

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’ملک کا مستقبل جمہوریت ہی سے وابستہ ہے‘

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو موجودہ حکومت کی کسی پالیسی پر اعتراض ہے تو اس بارے میں پارلیمنٹ کا فورم موجود ہے جہاں پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

’دیر ہوگئی ہے، ملاقات 14 اگست کے بعد‘

پیر کے روز وژن 2025 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ملک کا مستقبل جمہوریت سے ہی وابستہ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ملک میں جب بھی ڈکیٹر آئے ہیں تو اس سے ملک کو نقصان پہنچا ہے۔

میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اپنے ہسمایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات مثالی نہیں ہے اور ایسے حالات میں ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ 14 ماہ کے گُزرنے کے بعد ایسے کون سے حالات پیدا ہو گئے کہ حکومت کے خلاف انقلاب مارچ کرنے کی نوبت آ گئی۔

اُنھوں نے طاہرالقادری کا نام لیے بغیر کہا کہ ایک شخص کینیڈا سے بھاگ کر پاکستان میں انقلاب لانے کی بات کر رہا ہے اور اگر اُنھوں نے انقلاب لانا تھا تو پھر ایک سال پہلے اُنھیں انتحابات میں حصہ لینا چاہیے تھا کیونکہ طاہرالقادری نے 2002 کے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا۔

میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ کہ وہ عمران خان کی ایک فون کال پر ان سے ملنے چلے گئے تھے اور ’اگر وہ دوبارہ بلائیں گے تو میں دوبارہ جاؤں گا۔‘

وزیرِ اعظم نے کہا اس طرح کے لانگ مارچ ترقیاتی کاموں کو سبوتاژ کرتے ہیں اور کسی کو بھی ملک کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیرِ اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی جیسے مسائل کا شکار ملک کے لیے انتہائی تیزی سے ترقی کا کرنا ممکن نہیں تاہم پاکستان اس راہ پر گامزن ہے۔

میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ انھوں نے وزاتِ عظمیٰ کے عہدے کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک عوامی مینڈیٹ کے خلاف اقدامات کر رہے ہیں۔

انھوں نے مولانا طاہرالقادری اور عمران خان کا نام لیے بغیر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’انقلاب لانا تھا تو پہلے ایک سال میں لاتے، انقلاب لانا تھا تو الیکشنز میں حصہ لیتے، چند سو ووٹ حاصل کرنے سے انقلاب نہیں آ جاتا۔‘

ان کے بقول: ’ایسے میں جب پاکستان بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی سے مسائل ہیں، پاکستان دنیا میں اپنی ساکھ کھو رہا ہے اور پاکستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بھی ٹھیک نہیں ہیں۔ پاکستان کو ان مشکلات سے نکالنے کے لیے میں نے یہ چلینج قبول کیا ہے۔‘

ادھر وزیر اعظم نے پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے لانگ مارچ سے متعلق اہم اجلاس لاہور میں طلب کرلیا ہے جس میں اس مارچ سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی وضع کی جائے گی۔

اسی بارے میں