’پُرتشدد احتجاج کرنے والوں کو اسلام آباد میں کھلا نہیں چھوڑ سکتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ حکومت آئین کے اندر رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کا خیر مقدم کرے گی لیکن غیر آئینی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پولیس کے ہاتھ توڑنے اور لوگوں کی گردنیں اُڑانے والوں کو اسلام آباد میں کھلا نہیں چھوڑ سکتے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر کسی پرتشدد ہجوم کو اسلام آباد آنے کی اجازت دی گئی تو پھر ہر چند ماہ کے بعد ایسا ہوتا رہے گا۔

منگل کے روز راولپنڈی اور اسلام آباد میں سکیورٹی کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے طلب کیے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ جڑواں شہر کے مکینوں کی زندگی کو مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں عراق، لیبیا یا شام جیسے حالات پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد رہے کہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں تحریکِ انصاف نے یومِ آزادی کے موقعے پر دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان عوامی تحریک کا بھی تحریکِ انصاف کی آزادی مارچ میں ان کا ساتھ دینے کا اعلان ہو چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسلام آباد میں تحریکِ انصاف نے یومِ آزادی کے موقعے پر دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا ہے

پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے لاہور میں کیے جانے والے مظاہروں میں کارکنان اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد کے ہلاک ہونے کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں جن میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت بھی شامل ہے۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ حکومت آئین کے اندر رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کا خیر مقدم کرے گی لیکن غیر آئینی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق انھوں نے اجلاس کو بتایا کہ 14 اگست کے بعد سے کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو ریڈ زون میں جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 21 ہزار کے قریب اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جن میں پولیس رینجرز اور فرنٹئیر کانسٹیبلری کے اہلکار شامل ہیں۔

اسلام آباد میں یوم آزادی کے موقع پر منعقد کی جانے والی تقریبات کی ’فل ڈریس ریہرسل‘ کے سلسلے میں منگل کی شب ریڈ زون کو سیل کر دیا جائے گا جبکہ ایک سو سے زائد کنٹینر شہر کے مختلف علاقوں میں سڑکوں کے کنارے رکھ دیے گئے ہیں جنھیں کسی بھی وقت سڑکوں کے درمیان میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔

چوہدری نثار علی خان نے جڑواں شہروں کی پولیس اور انتظامیہ کے حکام سے کہا کہ وہ اپنے علاقوں میں اندرونی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کریں اور لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

اسی بارے میں