کراچی میں فائرنگ، دو پولیس اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کراچی میں چند روز کی خاموشی کے بعد پرتشدد واقعات میں پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں دو پولیس اہلکاروں سمیت تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں میں ضلع وسطی کے تھانے پریڈی کے ایس ایچ او غصنفر کاظمی بھی شامل ہیں۔

کراچی پولیس کے ڈی ایس پی مختار کا کہنا ہے کہ غضنفر کاظمی کو منگل کی شب انکل سریا ہپستال کے قریب نشانہ بنایا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ غصنفر کاظمی ہسپتال میں معائنے کے بعد اپنے گھر کی طرف جا رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی جس کی نتیجے میں وہ ہلاک ہوگئے۔

آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور تحقیقات کے لیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

دوسری جانب قیوم آباد کے علاقے میں گل احمد چورنگی کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے اے ایس آئی جمیل شاہ ہلاک جبکہ دو راہگیر زخمی ہوگئے ہیں جنہیں جناح ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

مقتول اے ایس آئی ان دنوں معطل اور ہیڈکوارٹر میں تعینات تھے۔

اس کے علاوہ پولیس کے مطابق لانڈھی کے قریب ہی ایک کلینک کے نزدیک فائرنگ سے امیر مہدی نامی شخص ہلاک جبکہ ان کا چھوٹا بھائی نہال مہدی زخمی ہوگیا ہے، جسے جناح ہپستال منتقل کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ کراچی میں چند روز کی خاموشی کے بعد پرتشدد واقعات میں پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسی بارے میں