پر امن لاہور میں حالتِ جنگ کا سماں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption علامہ طاہر القادری کے یوم شہدا کو روکنے کے لیے لاہور کو چار روز پہلے مکمل بند کر دیا گیا

لاہور کو پاکستان کا نسبتاً پرامن شہر سمجھا جاتا ہے لیکن جو مناظر دنیا بھر نے پہلے 17 جون کو اور پھر گذشتہ چند روز کے دوران دیکھے انھوں نے اس تصّور کو خاصا مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔

علامہ طاہرالقادری اور عمران خان اپنے احتجاج سے کس قسم کی تبدیلی اور کیا نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں، یہ تو ابھی بھی واضح نہیں، تاہم جس انداز سے ان کی سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے اس پر بھی بہت سے سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

علامہ طاہر القادری کے یوم شہدا کو روکنے کے لیے لاہور کو چار روز پہلے مکمل بند کر دیا گیا۔ شہر کی سڑکوں خصوصاً ماڈل ٹاون کے اردگرد خانہ جنگی کا منظر دکھائی دیا۔ جگہ جگہ رکاوٹیں، ناکے، موٹرسائیکلوں پر کریک ڈاؤن، شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کی بندش، پٹرول کی قلت، اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ، پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری اور موبائل کی جزوی بندش۔ شہر تھا کہ جنگ کا منظر پیش کرتا رہا۔

تجزیہ کار رسول بخش رئیس کہتے ہیں: ’دونوں جانب سے ایسا لگتا ہے کہ تصادم ایک فطری سی بات بن چکی ہے، حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے اس معاملے کی ہینڈلنگ سے پہلے ہمیں اس ماحول کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو اس وقت پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری اور پنجاب حکومت کے درمیان موجود ہے۔ انقلاب کے نعرے، ذاتی حملے دونوں فریق ایک دوسرے کی بات سمجھنے کو تیار نہیں۔‘

اور تصادم ابھی یہیں رکتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ لاہور میں جزوی طور پر رکاوٹیں تو ہٹائی گئی ہیں لیکن کنٹینر ابھی بھی موجود ہیں جو کسی بھی وقت دوبارہ استمعال میں لائے جاسکتے ہیں۔

دو روز میں شہر کےباہر سے آنے والی باراتیں واپس ہوئیں، شادیاں ملتوی کرنا پڑیں، مریض ایمبولنسوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے اور ریسکیو اہلکاروں کی کارروائیاں بھی متاثر ہوتی رہیں۔

متاثر کون ہوا؟ وہ عام آدمی، جو نہ تو علامہ طاہرالقادری اور نہ عمران خان کی تحریک کا حصہ ہے اور نہ ہی حکومت سے کوئی ہمدردی رکھتا ہے۔

وہ لوگ جو روز کی روز کمائی سے شام کو گھر کا چولھا جلاتے ہیں، وہ لوگ جنھیں کاروبار کے لیے شہر سے باہر آنا جانا پڑتا ہے، وہ کاشت کار جن کی پھل اور سبزیاں شہر بند ہونے کے باعث شاہراہوں پر ہی گل سڑ کے ختم ہو گئیں، اور وہ لوگ جنھیں اشیائے ضرورت مہنگے داموں خریدنا پڑیں۔

ان حالات میں عام آدمی بےیقینی کا شکار ہے۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے یہ پوچھتا ہے کہ پاکستان کا کیا بنے گا۔ اس وقت امن عامہ کی جو صورتحال ہے، خدشہ ہے کہ فوج عارضی یا مستقل طور پر ٹیک اوور نہ کرلے۔

لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر سہیل لاشاری کہتے ہیں: ’ابھی خودکش حملوں میں کمی ہوئی تھی اور ہمیں لگا تھا کہ اب سرمایہ کاری کے حوالے سے حالات بہتری کی طرف جائیں گے لیکن اس سیاسی تناؤ نے ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے۔ جب جگہ جگہ رکاوٹیں ہوں لوگ گھروں سے نہ نکل سکیں بے یقینی کی فضا ہو تو معیشت تو متاثر ہوتی ہے۔ اگر یہ صورتحال 14 اگست تک بھی برقرار رہتی ہے تو ہمیں خدشہ ہے کہ معیشت کو 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوجائے۔ حکومت اور اپوزیشن کو چاہیے کہ معاملات کو مذاکرات سے حل کریں۔‘

لیکن مذاکرات کے دروازے تو بند کیے جا چکے ہیں۔ اگر مذکرات ہوئے بھی تو 14 اگست کے بعد ہی ہوں گے اور اس دوران لاہور، اسلام آباد اور پنجاب کے کئی اور شہروں میں صورتحال ایسے ہی رہے گی۔

اس ساری صورتحال میں ایک مرتبہ پھر الیکڑانک میڈیا کے کردار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ ٹی وی چینلوں کی طویل لائیو کوریج نے پاکستانی سیاست کے کئی غیر اہم کرداروں کو اہم بنا دیا ہے۔

لیکن تجزیہ نگار ڈاکٹر مہدی حسن اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا خیال ہے کہ میڈیا اس کا تنہا ذمےدار نہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’حکومت کے ردِ عمل کا اس میں بہت دخل ہے۔ انھوں نے سخت گیر رویہ تو رکھا لیکن کیا فائدہ ہوا۔ وہ یوم شہدا کو روکنے میں تو کامیاب نہیں ہوئے۔ اگر حکومتی پارٹی کے پاس اچھے منصوبہ ساز اور مشیر ہوتے تو وہ ان مارچوں اور احتجاجوں کو نظرانداز کر دیتے۔ یہ لوگ چند روز میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرکے منتشر ہو جاتے، لیکن حکومت نے انتقام اور تصادم کی پالیسی اپنائی اور انھیں بے جا اہمیت دی جس سے صورتحال مزید گھمبیر ہوئی۔‘

اسی بارے میں