بانیِ پاکستان کی 11 اگست کی تقریر غائب، مگر کیوں ؟

تصویر کے کاپی رائٹ assembly
Image caption قائد کی 11 اگست کی تقریر کا صوتی ریکارڈ غائب ہے جس میں انھوں نے مذہب اور ریاست کو الگ قرار دیا تھا۔

’مذہب ذاتی معاملہ ہے، ریاست سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔‘ یہ الفاظ بانیِ پاکستان محمد علی جناح کی اس تقریر کا متن ہیں جو انھوں نے 66 سال قبل 11 اگست 1947 کو پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی میں کی تھی۔ لیکن اس تقریر کا صوتی ریکارڈ غائب ہے اور یہی نہیں بلکہ بہت سے حلقے ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ قائداعظم نے کبھی ایسا کہا ہی نہیں۔

مگر اس تقریر کو سننے والے چند چشم دید گواہ آج بھی زندہ ہیں۔ انھیں میں سے ایک کراچی کی صفیہ خیری ہیں۔ 80 سالہ صفیہ خیری بتاتی ہیں کہ انھوں نے قائد کو یہ الفاظ کہتے سنا بھی اور دیکھا بھی۔

’جب قائداعظم اسبملی میں بولے تو میں نے ان کی تقریر سنی تھی۔ میں قانون ساز اسمبلی کی مہمانوں کی گیلری میں موجود تھی۔ میرے والد ان دنوں اسمبلی میں کام کر رہے تھے۔ میں نے بعد میں بھی یہ تقریر سنی تھی۔ ریڈیو پر بھی سنی تھی۔ اس کا ٹیپ بھی ریڈیو پاکستان کے پاس موجود تھا۔‘

لیکن پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن، ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ میں محمد علی جناح کی 11 اگست کی تقریر موجود نہیں ہے۔ اس معمے کے حل کے لیے میں نے ریڈیو پاکستان کا رخ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سیاسی قیادتوں نے مناسب نہیں سمجھا کہ نئے پاکستان کے حوالے سے قائداعظم کی سوچ لوگوں تک پہنچے،مرتضی سولنگی

ریڈیو پاکستان کے سابق سربراہ مرتضیٰٰ سولنگی نے بتایا کہ انھوں نے اس تقریر کا کھوج لگانے کی بہت کوششیں کی لیکن ناکامی اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس تقریر کی موجودگی کے حوالے سے کوئی کاغذات کوئی بھی دستاویزی ثبوت موجود نہیں۔ ان کے مطابق تاہم ریڈیو پاکستان کے ہی چند سابقہ اہلکاروں نے انہیں بتایا کہ ’یہ ٹیپ ہمارے پاس (ریڈیو پاکستان) تھی لیکن اس کے مواد کی وجہ سے اسے نشر نہیں کیا گیا اور یہ پڑی رہی اور پھر غائب ہو گئی۔‘

لیکن بحیثیت ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان مرتضیٰٰ سولنگی کی کوششیں یہیں ختم نہیں ہوئیں۔ انھوں نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اور آل انڈیا ریڈیو سے بھی قائد اعظم کی تقریر حاصل کرنے کی کوشش کی۔

بی بی سی سے رسمی اور غیر رسمی دونوں سطحوں پر رابطےکرنے پر انھیں جواب ملا کہ ’ان کے پاس تقریر موجود نہیں۔‘

لیکن دو سال قبل دہلی میں آل انڈیا ریڈیو کے بین القوامی شعبے سے وابستہ اہلکاروں نے مرتضیٰٰ سولنگی کو یہ کہہ کر آس دلا دی کہ ان کے پاس قائداعظم کی 14 اگست 1947 کی تقریر موجود ہے۔

متعلقہ انتظامیہ کی ہدایات کے مطابق مرتضیٰ سولنگی نے تحریری طور ایک درخواست آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹر جنرل اور پاکستان کے دہلی میں ہائی کمشنر شاہد ملک کو بھی لکھی۔

لیکن کچھ عرصہ گذرنے کے بعد شاہد ملک نے مرتضیٰ سولنگی کو بتایا کہ قائد کی 11 اگست کی تقریر کی ٹیپ آل انڈیا ریڈیو کے پاس بھی نہیں۔

مرتضیٰ سولنگی کی کوششیں تو شائد ختم ہو گئیں تاہم وہ کہتے ہیں کہ عقل یہی کہتی ہے کہ 11 اگست کی تقریر کی ٹیپ کو غائب کیا گیا۔

’اگر فاطمہ جناح کی ٹیپس کی تدوین کی جا سکتی ہے ،جوش ملیح آبادی کا 70 کی دہائی میں ہونے والا انٹرویو آج تک نشر نہیں کیا گیا، غالب گمان یہی ہے کہ آنے والی سیاسی قیادتوں نے مناسب نہیں سمجھا کہ نئے پاکستان کے حوالے سے قائداعظم کی سوچ لوگوں تک پہنچے۔‘

Image caption شاید اس تقریرکے کچھ متن کو جنرل ضیاء الحق کے دور میں حذف کیا گیا تھا، خالد شیرازی

لیکن ریڈیو پاکستان کے پرانے ریکارڈ سے وابستہ لوگ کیا کہتے ہیں؟

ریڈیو پاکستان کے سابقہ ریکارڈ کے شعبے میں بطور ڈائریکٹر وابستہ رہنے والے خالد شیرازی سے رابطہ کرنے پر یہ پتہ چلا کہ محمد علی جناح کی 11 اگست 1947 کی تقریر 1977 سے قبل تک ’ارشاد قائداعظم‘ کے سلسلے میں قائد کی دیگر تقاریر کے ساتھ نشر ہوتی رہی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ شاید اس تقریرکے کچھ متن کو جنرل ضیاء الحق کے دور میں حذف کیا گیا تھا۔

خالد شیرازی کہتے ہیں کہ قائد کی وہ تقریر انگریزی زبان میں تھی تقریر کا مسودہ اور صوتی ٹیپ سنہ 2003 تک وہاں موجود تھی مگر اس کے کچھ الفاظ حذف ہو چکے تھے۔

’اس میں سے وہ الفاظ کاٹ دیے جا چکے تھے جس میں قائداعظم نے یہ کہا تھا کہ اب پاکستان بن گیا ہے اور دوسرے مذاہب والوں کو مسلمانوں کی طرح شہریوں کا درجہ حاصل ہوگا اور وہ اپنے اپنے مذاہب کے مطابق یہاں زندگی گذار سکتے ہیں۔‘

کیا واقعی ایسا ہے؟

اس سوال کے جواب میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں ریڈیو پاکستان کےشعبہ سابقہ ریکارڈ کے سربراہ سجاد ترمذی نے تصدیق کی کہ جنرل ضیاء الحق کے دور میں قائد اعظم کی 11 اگست کی تقریر موجود تھی۔ انھیں یقین ہے کہ تقریر اب بھی ریڈیو کے ریکارڈ میں موجود ہوگی۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ شالیمار کمپنی، وزارت اطلاعات ونشریات کے ماتحت تھی جس نے قائداعظم کی تقریر کے بہت سے کیسٹ مارکیٹ تک لائے تھے۔

لیکن ساتھ ہی سجاد ترمذی نے یہ بھی کہا کہ ’ دنیا میں کئی چیزوں کے ریکارڈ غائب ہوتے رہتے ہیں یہ بھی ضائع ہو گیا ہوگا۔‘

محمد علی جناح کی تقریر کہاں گئی یہ معمہ تو حل نہیں ہو سکا لیکن ایک طالب علم کی حیثیت سے پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی کی گیلری میں بانی پاکستان کی تقریر سننے والی صفیہ خیری کہتی ہیں کہ اس تقریر میں محمد علی جناح میں کوئی حیران کن بات نہیں کی تھی اور سوال یہ ہے کہ اگر قائداعظم نے کہا تھا کہ پاکستان اسلامی ریاست بنے گی تو 99 فیصد مولویوں نےان کا ساتھ کیوں نھیں دیا تھا۔

’ قائد اعظم نے یہ کبھی نہیں کہا تھا کہ ہندو ہمیں نماز نہیں پڑھنے دیتے اور تنگ کرتے ہیں ہاں یہ ضرور کہا کہ وہاں معاشی مساوات نہیں اور یہ کہ ہندو اور مسلمان ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں ۔‘

اسی بارے میں