کوئٹہ میں دھماکہ، بچوں سمیت 16 زخمی

Image caption دھماکے کا مقصد یوم آزادی کی تقریبات کو سبوتاژ کرنا ہے: سرفراز بگٹی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں منگل کی شب ایک بم دھماکے میں کم از کم 16 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ دھماکہ پرنس روڈ پر واقع اس دکان کے سامنے ہوا جہاں پاکستان کے یومِ آزادی کی مناسبت سے قومی پرچم کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے جھنڈے اور بیج فروخت ہو رہے تھے۔

پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے اس دکان کے سامنے دھماکہ خیز مواد رکھا تھا جو اس وقت پھٹا جب دکان پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق یہ ٹائمڈ ڈیوائس تھی جس میں ایک پاؤنڈ دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔

دھماکے میں مجموعی طور پر 16 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ ان زخمیوں کو سول ہسپتال منتقل کردیا گیا جن میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے جائے وقوعہ پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اس واقعہ کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا اس کا مقصد یوم آزادی کی تقریبات کو سبوتاژ کر ناہے۔

ان کا کہنا تھاکہ یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے لیکن ہم اس طرح کے واقعات سے مرعوب نہیں ہوں گے بلکہ یوم آزادی کی تقریبات کو شایان شان طریقے سے منایا جائے گا۔

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ یوم آزادی کی تقریبات کے حوالے سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں لیکن بلوچستان میں گزشتہ دس سال سے جو حالات ہیں اس میں ایسے واقعات کا رونما ہونا غیر متوقع نہیں ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ شب بھی کوئٹہ کے شمال مشرقی علاقے میں راکٹوں کے پھٹنے سے زور دار دھماکے ہوئے تھے۔ اس راکٹ حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔

اسی بارے میں