ٹیکنوکریٹس کی نہیں غیر سیاسی حکومت بنے گی: عمران خان

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کا لانگ مارچ پرامن اور آئینی ہو گا

پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت کے خلاف’آزادی مارچ‘ کے آغاز سے ایک دن پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف کے مستعفی ہونے کے بعد ملک میں ٹیکنوکریٹس کی نہیں بلکہ غیر سیاسی اور غیر جانبدار حکومت بنے گی۔

لاہور میں بدھ کی شب کارکنوں سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اسلام آباد جا کر مطالبہ کریں گے کہ انتخابی دھاندلی میں ملوث وزیرِ اعظم کو مستعفی ہونا چاہیے۔

انھوں نے وزیراعظم کو مخاطب کر کے کہا کہ ’میاں صاحب عدالتی کمیشن تب بنے گا جب آپ مستعفی ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ 14 اگست کی صبح 10 بجے زمان پارک لاہور سے روانہ ہو گا اور وہ ’شریف خاندان کی بادشاہت ختم کر کے رہیں گے اور حقیقی جمہوریت لائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’وزیرِ اعظم کے استعفے کے بعد ٹیکنوکریٹس کی نہیں غیر سیاسی اور غیر جانبدار حکومت بنے گی۔‘

عمران خان اس سے قبل نواز حکومت کی جگہ ٹیکنوکریٹس کی حکومت بنانے کے بارے میں بیان دے چکے ہیں اور ان کی جماعت کے سرکردہ رہنما مخدوم جاوید ہاشمی اسی معاملے پر ناراض ہو کر ملتان چلے گئے تھے۔

تاہم اب عمران خان کی جانب سے موقف تبدیل ہونے پر وہ واپس لاہور پہنچ رہے ہیں اور مارچ میں شریک ہوں گے۔

پارٹی سے راضی ہونے کے بعد جاوید ہاشمی نے اپنے میڈیا بیان میں کہا کہ عمران خان نے بتایا ہے کہ میں نے غلطی سے یا غلط فہمی سے ٹیکنوکریٹس کی بات کی تھی۔

تحریکِ انصاف کے چیئرمین نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ ایک نیا پاکستان بنتے دیکھ رہے ہیں اور ’جن لوگوں نے عوام کا مینڈیٹ چوری کیا ہے انھیں سزائیں دی جائیں گی۔‘

انھوں نے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم بھی کیا جس کے تحت لاہور میں راستے بند کرنے کے لیے رکھے گئے کنٹینرز ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ مطابق عدالتی حکم کے باوجود سٹرکوں سے کنٹینرز نہیں ہٹائے جا رہے ہیں۔

عمران خان نے لانگ مارچ اور دھرنے کے حوالے سے عدالتی فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ان کی جماعت کا مارچ غیر آئینی نہیں ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلہ مبہم ہے تاہم وہ اس کا احترام کرتے ہیں: ’ہائی کورٹ نے غیر آئینی اقدامات سے روکا ہے۔ ہم آئین کے تحت قانون کی بالادستی کے لیے لانگ مارچ کرنے نکلے ہیں۔‘

عمران خان نے کہا کہ پرامن مارچ صورت ہوگا اور انھوں نے یہ نہیں کہا کہ بندوق کے ذریعے انقلاب لا رہے ہیں۔

اسی بارے میں