ممکنہ ماورائے آئین اقدام، سپریم کورٹ کا لارجر بینچ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت نے اس ضمن میں اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا ہے

پاکستان کے چیف جسٹس ناصر الملک نے ممکنہ ماورائے آئین اقدام کو روکنےکے لیے دائر کی گئی درخواست پر ایک پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا ہے جو 15 اگست سے اس درخواست کی سماعت کرے گا۔

اس لارجر بینچ کی سربراہی چیف جسٹس خود کریں گے جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مشیر عالم اس بینچ میں شامل ہیں۔

یہ درخواست سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کامران مرتضی نے دائر کی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملک کی موجودہ صورت حال میں شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق پامال نہ کیے جائیں اور کوئی مجاذ اتھارٹی اور ریاستی ادارے کسی بھی صورت میں ماروائے آئین اقدام نہ اُٹھائیں۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک کی موجودہ صورت حال میں سیاسی حلقوں اور مبصرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ کسی بھی ریاستی ادارے کی جانب سے ماورائے آئین اقدام کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ یہ عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی صورت حال میں شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

عدالت نے اس ضمن میں اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے تمام جج آئندہ ہفتے اسلام آباد میں ہی ہوں گے اور اس ضمن میں چیف جسٹس ناصر الملک نے چھ بینچ تشکیل دیے ہیں جس میں مختلف مقدمات کی سماعت ہوگی۔

یاد رہے کہ دو نومبر2007 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار وجہیہ الدین کے وکیل بیرسٹر اعتزاض احسن نے ایک درخواست دائر کی تھی کہ ملک میں بعض ریاستی ادارے ماورائے آئین اقدام کر سکتے ہیں۔

جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک لارجر بینچ نے اس درخواست کی سماعت پانچ نومبر کے لیے مقرر کی تھی تاہم اس درخواست کی سماعت سے قبل ہی تین نومبر کو پرویز مشرف کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی عائد کر دی گئی تھی۔