پرجوش کارکن اور چیونٹی کی رفتار سے چلتا جلوس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طاہر القادری کا انقلاب مارچ ان کے بہت دیر بعد شروع ہوا اور جلد ہی آزادی مارچ کو پیچھے چھوڑ کر آگے نکل گیا

تحریک انصاف کی ریلی نے عمران خان کی قیادت میں لاہور سے نکلنے میں پورا ایک روز لے لیا لیکن کارکنوں کے جوش و خروش میں کوئی کمی دکھائی نہیں دی ہے۔

جلوس کے زیادہ تر شرکاء نعرے بازی کرتے، گانے گاتے، رقص کرتے اور مسکراتے چہروں کے ساتھ نظر آئے۔

چند نوجوان ایسے ملے جنہوں نے کفن پہن رکھے تھے اور ان پر لکھا تھا کفن پوش، پانچ چھ نوجوانوں کی ایک ٹولی نے اپنے چہرے بال اور جسم مختلف رنگوں سے بھرے ہوئے تھے اور وقفے وقفے سے یہ ٹولی گاڑیوں کے سامنے کھڑے ہوکر تھرکنا شروع کردیتے۔

لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی تھی جو پورے خاندان یعنی میاں بیوی بچے بھائی بہنوں یا والدین کے ہمراہ جلوس میں شریک ہوئے۔

خاص بات یہ تھی کہ جلوس کے شرکاء کے چہروں پر تناؤ کے اثار تھے نہ وہ کسی پرتشدد کارروائی پر مصر نظر آرہے تھے۔

لاہور کی مرکزی شاہراہ مال روڈ پر سیاسی رواداری کا ایک یہ منظر دیکھنے میں آیا کہ عمران خان اور نواز شریف کے بینر اورپوسٹر ساتھ ساتھ لگے رہے لیکن تحریک انصاف کے شرکاءنے نواز شریف کے بینر پھاڑنے کی کوشش نہیں کی البتہ اس نوعیت کے اکادکا واقعات نظر انداز کیے جانے کے قابل تھے۔

مال روڈ پر پر پاکستان کے جشن آزادی پر رش تو ہمیشہ ہوتا ہے لیکن اس بار پورے دن مال پر صرف اور صرف تحریک انصاف کے کارکنوں کا ہی قبضہ رہا ہے۔

عمران خان کی قیادت میں مرکزی جلوس تو چیونٹی کی رفتار سے رینگ رہا تھا لیکن تحریک انصاف کے کارکن پوری مال روڈ پر مٹر گشت کرتے پھر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جلوس اتنا آہستہ چلے گا اس کا اندازہ شاید خود عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو بھی نہیں تھا

ایک ٹرک پر پارٹی رہنماؤں کے ساتھ سوار عمران خان اگرچہ ہاتھ ہلا ہلا کر کارکنوں کے والہانہ نعروں کا جواب دیتے رہے اور جلد چلنے کے اشارے بھی کرتے رہے لیکن جلوس کی سست روی میں خود انہوں نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔

اور صرف لاہور کی ایک شاہراہ مال روڈ پر نصف درجن کے قریب خطاب کیے۔

عمران خان کے جلوس کی سست روی کا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ طاہر القادری کا انقلاب مارچ ان کے بہت دیر بعد شروع ہوا اور جلد ہی آزادی مارچ کو پیچھے چھوڑ کر آگے نکل گیا۔

حالانکہ انقلاب مارچ کے لوگ پیدل بھی چل رہے تھےکیونکہ طاہر القادری کے بقول نہیں ٹرانسپورٹ نہیں لینے دی گئی تھی اور مارچ شروع ہوجانے کے بعد انہوں نے ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرناشروع کیا۔

یہ جلوس اتنا آہستہ چلے گا اس کا اندازہ شاید خود عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو بھی نہیں تھا۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ان کا خیال تھا کہ وہ رات بارہ ایک بجے تک اسلام آباد پہنچ جائیں لیکن اب تو لگتا ہے کہ کل رات بارہ ایک بجے تک بھی پہنچ جائیں تو بڑی بات ہے۔

عمران خان نے اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا ہے جہاں خیبر پختونخوا سے وزیراعلی پرویز خٹک کی سربراہی میں تحریکِ انصاف کے رہنماوں اور کارکنوں کے جلوس کب کے پہنچ چکے ہیں اور اب دیکھنا یہ ہے کہ اپنے چیئرمین کے لیے ان کارکنوں کو کتنا اور انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسی بارے میں